پاکستان

پاکستان کا خام تیل کے اسٹریٹجک ذخائر بنانے کا فیصلہ

انرجی سیکیورٹی اب انتہائی اہمیت اختیار کرگئی ہے، شہباز شریف
شائع اپ ڈیٹ

وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر ملک کی مستقبل کی توانائی ضروریات کے پیشِ نظر خام تیل کے اسٹریٹجک ذخائر رکھنے کیلئے ایک جامع منصوبے پر کام جاری ہے۔

اعلیٰ سطح اجلاس میں انرجی سیکیورٹی اور الیکٹرک گاڑیوں (ای ویز) کے فروغ کے لیے جامع حکمتِ عملی پر غور کیا گیا۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ انرجی سیکیورٹی ملک کی مجموعی مستقبل کی منصوبہ بندی کا انتہائی اہم حصہ ہے۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ موجودہ علاقائی صورتحال میں توانائی بچت کے حوالے سے بروقت اقدامات کی بدولت ملک کسی بڑے توانائی کے بحران سے محفوظ رہا۔

وزیراعظم نے کہا کہ توانائی بچت اور پائیدار ترقی کے فروغ کے لیے ٹرانسپورٹ کو مرحلہ وار ماحول دوست الیکٹرک گاڑیوں پر منتقل کیا جانا چاہیے۔

انہوں نے مزید ہدایت کی کہ مستقبل میں سرکاری استعمال کے لیے صرف الیکٹرک بسیں اور موٹر سائیکلیں ہی خریدی جائیں۔

انہوں نے کہا کہ سولر انرجی سے پیدا ہونے والی اضافی بجلی کو محفوظ کرنے کے لیے بیٹریوں کا حصول آسان بنانے کی خاطر ایک حکمتِ عملی تیار کی جانی چاہیے۔

وزیراعظم کو بریفنگ دی گئی کہ علاقائی صورتحال کے تناظر میں، توانائی کے شعبے کے لیے بنائی گئی نیشنل کوآرڈینیشن اینڈ مینجمنٹ کونسل (این سی ایم سی) روزانہ کی بنیاد پر حالات کا جائزہ لے رہی ہے۔

اجلاس کو یہ بھی بتایا گیا کہ تیل اور گیس کی کمپنیوں کی مسلسل کوششوں کے نتیجے میں گیس اور تیل کی مقامی پیداوار میں اضافہ ہورہا ہے جبکہ گرڈ کی سطح پر بیٹری اسٹوریج پر توجہ مرکوز کرنے والے دو پائلٹ پراجیکٹس کے لیے پی سی ون تیار کیا جا رہا ہے۔

یاد رہے کہ بدھ کو وزیراعظم شہباز شریف کو بریفنگ دی گئی تھی کہ ملک میں 30 فیصد گاڑیوں کو آئندہ 5 سال کے اندر الیکٹرک پر منتقل کرنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے جس سے ایندھن کی درآمدات کی مد میں تقریباً 4.5 ارب ڈالر کی بچت متوقع ہے۔

وزیراعظم کی زیرِ صدارت الیکٹرک گاڑیوں (ای ویز) کے فروغ کے حوالے سے منعقدہ جائزہ اجلاس میں حکام نے بتایا کہ گریڈ 16 تک کے سرکاری ملازمین کو آسان اقساط پر الیکٹرک موٹر سائیکلیں فراہم کی جائیں گی۔

وزیراعظم نے ہدایت کی کہ نیشنل ای وی پالیسی کے تحت کم آمدن والے طبقے کے لیے الیکٹرک موٹر سائیکلوں کی سبسڈی میں شفافیت کو یقینی بنایا جائے اور اس اسکیم پر عملدرآمد کے عمل کو تیز کیا جائے۔