دنیا

ایرانی صدر کا کشیدگی میں کمی کیلئے سفارت کاری کی اہمیت پر زور

  • ایران اور امریکہ کے درمیان دو ہفتوں کی جنگ بندی بدھ کو ختم ہونے جا رہی ہے
شائع April 20, 2026 اپ ڈیٹ April 20, 2026 03:00pm

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے پیر کے روز کہا ہے کہ امریکہ کے ساتھ کشیدگی کم کرنے کے لیے تمام معقول اور سفارتی راستے اختیار کیے جانے چاہئیں، تاہم واشنگٹن کے ساتھ معاملات میں محتاط رویہ اور عدم اعتماد ناگزیر حقیقت ہے۔ یہ بات ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے کے حوالے سے سامنے آئی۔

ایران اور امریکہ کے درمیان دو ہفتوں کی جنگ بندی بدھ کو ختم ہونے جا رہی ہے، جبکہ امریکی نمائندوں کی پیر کو اسلام آباد آمد متوقع ہے تاکہ ایران سے مذاکرات کیے جا سکیں۔ تاہم تہران نے ابھی تک یہ واضح نہیں کیا کہ آیا وہ اس عمل میں شرکت کرے گا یا نہیں۔

ایرانی سرکاری ٹی وی کے مطابق ایک باخبر ذریعے نے بتایا ہے کہ امریکہ کے غیر معقول مطالبات اور بدلتے ہوئے مؤقف کے باعث مذاکرات کے دوسرے دور کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔

دونوں ممالک کے درمیان آبنائے ہرمز کا معاملہ مرکزی تنازع بن چکا ہے، جہاں ایران نے بحری آمد و رفت پر کنٹرول سخت کر دیا ہے، جبکہ امریکہ ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی جاری رکھے ہوئے ہے۔ اتوار کے روز امریکہ نے ایک ایسے جہاز کو بھی اپنی تحویل میں لیا جو اس ناکہ بندی کو عبور کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔

ایران اور امریکہ دونوں ایک دوسرے پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کے الزامات عائد کر رہے ہیں۔ صدر مسعود پزشکیان کا کہنا تھا کہ امریکی ناکہ بندی اس بات کا اشارہ ہے کہ واشنگٹن دوبارہ پرانی پالیسیوں کی طرف جا رہا ہے اور سفارت کاری سے پیچھے ہٹ رہا ہے۔