پاکستان کا آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کی فوری بحالی کا مطالبہ
پاکستان نے آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں اور عملے کی سلامتی یقینی بنانے پر زور دیتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ سویلین جہازوں کی تیز اور محفوظ آمد و رفت کی ضمانت دے اور آبنائے ہرمز کے ذریعے معمول کی بحری ٹریفک بحال کرے۔
آبنائے ہرمز کے حوالے سے جنرل اسمبلی میں ویٹو پر ہونے والے مباحثے کے دوران سفیر عاصم افتخار احمد نے اس بات پر زور دیا کہ مشرقِ وسطیٰ کے تنازع کے دور رس اثرات مرتب ہوئے ہیں جس نے پورے خطے کو متاثر کیا اور اس کا دائرہ اس سے کہیں آگے تک پھیل چکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر پاکستان کا واضح اور غیر مبہم موقف سلامتی کونسل اور دیگر فورمز پر بیان کیا جاچکا ہے۔ پاکستان خطے میں گزشتہ چند ہفتوں کے دوران ہونے والی پیش رفت پر گہری تشویش رکھتا ہے۔ یہ تنازع جس کے نتائج نے خطے کے ہر فرد اور اس سے باہر کے لوگوں کو بھی متاثر کیا ہے، کبھی ہونا ہی نہیں چاہیے تھا۔
عاصم افتخار احمد نے کہا کہ پاکستان نے آغاز ہی سے کشیدگی میں کمی، دشمنی کے خاتمے اور بحران کے پرامن سفارتی حل کے لیے مذاکرات کی واپسی کو ترجیح دی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان نے 11 اور 12 اپریل کو اسلام آباد مذاکرات کی کامیابی سے میزبانی کی۔ یہ مذاکرات فریقین کے ساتھ پاکستان کے رابطوں اور دشمنی کے فوری خاتمے اور خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے کی جانے والی کوششوں کے نتیجے میں ممکن ہوئے۔ اسلام آباد پراسیس کے ذریعے پاکستان جنگ کے خاتمے اور طویل مدتی امن کو یقینی بنانے کے مقصد پر عمل پیرا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان خطے کے تمام برادر ممالک کی خودمختاری، علاقائی سالمیت، سیاسی آزادی اور سلامتی کی حمایت کرتا ہے۔ پاکستان نے ان مشکل حالات میں برادر خلیجی تعاون کونسل کے ممالک کے ساتھ اپنے مسلسل اور غیر متزلزل تعاون اور مکمل یکجہتی کا اظہار بھی کیا ہے۔
یہ پیشرفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو کہا کہ امریکہ اور ایران امن معاہدے کے بہت قریب ہیں اور وہ معاہدے پر دستخط کے لیے پاکستان جانے پر بھی غور کریں گے۔
وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے مزید کہا کہ تہران اپنی افزودہ یورینیم کا ذخیرہ حوالے کرنے پر رضامند ہو گیا ہے جبکہ دونوں ممالک اسلام آباد میں مزید مذاکرات پر غور کررہے ہیں۔
ٹرمپ نے لاس ویگاس کے دورے کے لیے اپنے ہیلی کاپٹر پر سوار ہونے سے قبل کہا کہ ہم ایران کے ساتھ معاہدہ کرنے کے بہت قریب ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں اس بات کو یقینی بنانا تھا کہ ایران کبھی ایٹمی ہتھیار حاصل نہ کر سکے، وہ اس پر مکمل طور پر راضی ہو گئے ہیں۔ وہ تقریباً ہر بات پر مان گئے ہیں، اس لیے اگر وہ مذاکرات کی میز پر آ جاتے ہیں، تو (صورتحال میں) واضح فرق آئے گا۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ معاہدے پر دستخط کے لیے پاکستان کا سفر کر سکتے ہیں، تو ٹرمپ نے جواب دیا: میں جا سکتا ہوں، ہاں۔ اگر معاہدے پر اسلام آباد میں دستخط ہوتے ہیں، تو شاید میں وہاں جاؤں۔
اقوامِ متحدہ میں اپنی تقریر کے دوران پاکستانی سفیر نے اس بات پر زور دیا کہ آبنائے ہرمز اشیاء کی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے ایک اہم بین الاقوامی بحری راستہ ہے۔ انہوں نے بحری جہازوں اور عملے کے ارکان کی سیکیورٹی کو یقینی بنانے، سویلین جہازوں کے محفوظ اور فوری گزرنے، اور آبنائے ہرمز کے ذریعے بحری آمد و رفت کی معمول کے مطابق بحالی کا مطالبہ کیا۔
آبنائے ہرمز کی صورتحال پاکستان سمیت دنیا بھر کے ممالک پر منفی اثرات مرتب کررہی ہے۔ علاقائی اور عالمی معیشت کے لیے اس کے نتائج واضح طور پر سنگین ہیں۔ پاکستانی عوام بھی اس کی وجہ سے مشکلات کا شکار ہیں۔ اس کے اثرات نہ صرف توانائی کی فراہمی بلکہ کھادوں اور دیگر ضروری اشیاء پر بھی محسوس کیے جا رہے ہیں جس سے غذائی تحفظ اور زندگی گزارنے کے اخراجات متاثر ہو رہے ہیں اور معاشرے کے کمزور ترین طبقے کا روزگار مشکل تر ہوتا جا رہا ہے۔