کاروبار اور معیشت

اسٹیٹ بینک کی لائسنس یافتہ ورچوئل اثاثہ سروس فراہم کنندگان کو باقاعدہ بینکنگ کی اجازت

  • یہ اقدام ورچوئل ایسٹس ایکٹ 2026 کے نفاذ کے بعد سامنے آیا ہے
شائع April 15, 2026 اپ ڈیٹ April 15, 2026 02:25pm

اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) نے بینکوں کو لائسنس یافتہ ورچوئل اثاثہ سروس فراہم کنندگان کے اکاؤنٹس کھولنے کی اجازت دے دی جس سے 2018 میں عائد کردہ پابندی ختم ہوگئی۔ مرکزی بینک کے سرکلر اور ورچوئل ایسٹ ریگولیٹر کے بیان کے مطابق یہ اقدام ملک میں ڈیجیٹل اثاثوں کو باقاعدہ مالیاتی نظام میں شامل کرنے کی کوششوں کا حصہ ہے۔

یہ اقدام ورچوئل ایسٹس ایکٹ 2026 کے نفاذ کے بعد سامنے آیا ہے اور یہ منی لانڈرنگ کی روک تھام اور تعمیل کے سخت قوانین کے تحت کرپٹو سے وابستہ کاروبار کو بینکنگ سسٹم میں لانے کی جانب پاکستان کا پہلا باضابطہ قدم ہے۔

پاکستان ورچوئل ایسٹس ریگولیٹری اتھارٹی (پی وی اے آر اے) کے چیئرمین بلال بن ثاقب نے بدھ کو جاری کردہ ایک بیان میں کہا کہ پاکستان کے باقاعدہ مالیاتی نظام میں ورچوئل اثاثوں کو شامل کرنے کی جانب یہ بنیادی قدم ہے۔

اسٹیٹ بینک نے کہا ہے کہ بینکوں کے لیے لازم ہے کہ وہ ان کمپنیوں کو اپنے ساتھ منسلک کرنے سے پہلے نئی قائم شدہ پاکستان ورچوئل اثاثہ ریگولیٹری اتھارٹی کے جاری کردہ لائسنس کی تصدیق کریں اور کلائنٹس کے لیے روپے میں علیحدہ اور غیر سودی اکاؤنٹس برقرار رکھیں۔

مرکزی بینک نے کہا ہے کہ بینکوں پر ڈیو ڈلیجنس، رسک پروفائلنگ اور مشکوک لین دین کی رپورٹنگ کی ذمہ داری برقرار رہے گی۔ مزید برآں، اسٹیٹ بینک نے واضح کیا ہے کہ قرض دینے والے ادارے (بینک) اپنے یا صارفین کے فنڈز استعمال کرتے ہوئے ورچوئل اثاثوں میں سرمایہ کاری نہیں کرسکتے اور نہ ہی انہیں اپنے ہولڈ کرسکیں گے۔

پاکستان عالمی کرپٹو پلیئرز کو ملک میں لانے کے لیے پہلے ہی اقدامات کر چکا ہے، دسمبر میں اس نے بائنانس کے ساتھ ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے تھے تاکہ تقریباً 2 ارب ڈالر تک کے اثاثوں کو ٹوکنائز کرنے کے امکانات کا جائزہ لیا جاسکے جب کہ بائنانس اور ایچ ٹی ایکس کو لائسنسنگ کا عمل شروع کرنے کے لیے ابتدائی کلیئرنس بھی دے دی گئی ہے۔

اس کے علاوہ جنوری میں ورلڈ لبرٹی فنانشل کے ایک ذیلی ادارے کے ساتھ بھی ایک معاہدہ طے پایا جس کا مقصد اسٹیبل کوائن پر مبنی سرحد پار ادائیگیوں کے طریقہ کار کا جائزہ لینا ہے۔