کاروبار اور معیشت

سگریٹ کی غیر قانونی تجارت، ایف بی آر کو سالانہ 200 ارب روپے کا ریونیو نقصان

  • آکسفورڈ اکنامکس کے ماہرین نے اس نقصان کا تخمینہ 274 ارب روپے سے 343 ارب روپے سالانہ تک لگایا ہے
شائع April 15, 2026 اپ ڈیٹ April 15, 2026 10:19am

وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی نے کہا ہے کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے مطابق ملک میں غیر قانونی سگریٹ کی تجارت کے باعث سالانہ تقریباً 200 ارب روپے کا ریونیو نقصان ہو رہا ہے، جبکہ آکسفورڈ اکنامکس کے ماہرین نے اس نقصان کا تخمینہ 274 ارب روپے سے 343 ارب روپے سالانہ تک لگایا ہے۔

اسلام آباد میں پاکستان میں غیر قانونی سگریٹ کی تجارت سے متعلق آکسفورڈ اکنامکس کی تحقیقی رپورٹ کی تقریبِ اجرا سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومتیں اب ٹیکس چوری شدہ سگریٹ کی وسیع پیمانے پر دستیابی کے خاتمے کے لیے نافذ العمل کارروائیاں مزید تیز کریں گی۔

انہوں نے بتایا کہ وفاقی حکومت نے صوبائی اداروں کے ساتھ مل کر غیر قانونی سگریٹ کی فروخت کے خلاف ملک گیر کریک ڈاؤن کا فیصلہ کیا ہے۔ ان کے مطابق اس غیر قانونی تجارت پر قابو پانا اب ناگزیر ہو چکا ہے کیونکہ یہ قومی خزانے کو بھاری نقصان پہنچا رہی ہے، دستاویزی معیشت کو کمزور کر رہی ہے اور ایماندار ٹیکس دہندگان کے لیے مشکلات پیدا کر رہی ہے۔

وزیر مملکت نے کہا کہ کئی غیر قانونی سگریٹ بنانے والے یونٹس بند کیے جا چکے ہیں جبکہ ریٹیل سطح پر چھاپہ مار کارروائیاں جاری ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت کی پالیسی کے تحت ٹیکس ادا کرنے والے شعبوں کو سہولت دی جائے گی جبکہ غیر قانونی تجارت میں ملوث عناصر کو سخت سزائیں دی جائیں گی۔

بلال اظہر کیانی نے کہا کہ آئی ایم ایف نے بھی تسلیم کیا ہے کہ ایف بی آر میں انفورسمنٹ کے ذریعے ریونیو اکٹھا کرنے کی صلاحیت موجود ہے، اور مالی سال 2025-26 کے ہدف میں اس پہلو کو باقاعدہ طور پر شامل کیا گیا ہے، جو ایک اہم پیش رفت ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعظم ایف بی آر اصلاحات کی ہفتہ وار نگرانی کر رہے ہیں، جن میں پروڈکشن مانیٹرنگ، فیس لیس کسٹمز، ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم اور دیگر اقدامات شامل ہیں۔ سیمنٹ، شوگر، ٹیکسٹائل اور تمباکو جیسے شعبوں میں بھی پروڈکشن مانیٹرنگ سسٹم نافذ کیا جا رہا ہے۔

آکسفورڈ اکنامکس کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں سالانہ تقریباً 43.5 ارب غیر قانونی سگریٹ استعمال ہو رہے ہیں، جو مجموعی مارکیٹ کا 50 فیصد سے زائد ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ قانونی سگریٹ کی فروخت میں مسلسل کمی کی وجہ غیر قانونی مصنوعات کا بڑھتا ہوا استعمال ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ زیادہ تر غیر قانونی سگریٹ مقامی طور پر تیار ہوتے ہیں، جبکہ ایک حصہ افغانستان کے راستے اسمگل کیا جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق غیر قانونی تجارت پر قابو پانے کے لیے مربوط اور طویل المدتی پالیسی اور سخت سرحدی نگرانی ضروری ہے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026