امریکہ ایران مذاکرات کے آغاز کے ساتھ ہی آبنائے ہرمز سے ٹینکرز کی روانگی شروع
- تین سپر ٹینکرز آبنائے ہرمز سے بلا روک ٹوک گزرے گئے
تین سپر ٹینکرز نے ہفتے کے روز آبنائے ہرمز عبور کرلی ہے، شپنگ ڈیٹا کے مطابق یہ جہاز امریکہ-ایران جنگ بندی معاہدے اور پاکستان میں جاری امن مذاکرات کے آغاز کے بعد خلیج سے نکلنے والے پہلے بحری جہاز معلوم ہوتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ایران کی جانب سے فروری کے آخر میں شروع ہونے والی جنگ کے بعد آبنائے ہرمز پر جزوی بندش یا رکاوٹ نے عالمی توانائی ترسیل کو متاثر کیا تھا اور تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا تھا، کیونکہ یہ آبی راستہ عالمی تیل اور مائع قدرتی گیس کی تقریباً 20 فیصد ترسیل کا مرکزی گزرگاہ ہے۔
ایل ایس ای جی ( ایل ایس ای جی ) کے اعداد و شمار کے مطابق لائبیریا کے پرچم بردار انتہائی بڑے خام تیل لے جانے والے جہاز ( وی ایل سی سی ) سیریفوس اور چین کے پرچم بردار وی ایل سی سی کوسپرل لیک اور ہی رونگ ہے، ہفتے کے روز ”ہرمز پیسیج ٹرائل اینکرج“ سے گزرے، جو ایران کے لارک جزیرے کو بائی پاس کرتا ہے۔
ہر جہاز میں تقریباً 20 لاکھ بیرل تیل لے جانے کی صلاحیت ہے۔
ایل ایس ای جی اور تجزیاتی ادارے کلیپر کے اعداد و شمار کے مطابق ” سیریفوس“ نامی جہاز، جس میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے مارچ کے اوائل میں لدا ہوا خام تیل موجود ہے، 21 اپریل کو ملائیشیا کی ملاکا بندرگاہ پر پہنچنے کی توقع ہے۔
اسی ڈیٹا کے مطابق ” کوسپرل لیک“ میں عراقی تیل موجود ہے جبکہ ” ہی رونگ ہے،“ سعودی خام تیل لے جا رہا ہے۔
یہ دونوں وی ایل سی سیز چینی توانائی کمپنی سائنوپیک کے تجارتی بازو یونی پیک کے تحت چارٹر ہیں۔
سائنوپیک نے اوقاتِ کار ختم ہونے کے بعد اس معاملے پر فوری طور پر تبصرہ کرنے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔