اسلام آباد مذاکرات: مندوبین اور صحافیوں کیلئے ویزا آن ارائیول کا اعلان
نائب وزیراعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے جمعہ کو اعلان کیا ہے کہ پاکستان اسلام آباد ٹاکس 2026 میں شرکت کرنے والے مندوبین اور صحافیوں کو ویزا آن ارائیول (آمد پر ویزا) کی سہولت فراہم کرے گا۔
ایک بیان میں اسحاق ڈار نے تمام ایئر لائنز سے درخواست کی ہے کہ وہ ان افراد کو ویزا کے بغیر جہاز پر سوار ہونے کی اجازت دیں جو ان مذاکرات میں شرکت کے لیے پاکستان کا سفر کررہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستانی امیگریشن حکام ملک میں داخلے کے وقت انہیں آن ارائیول ویزے جاری کریں گے۔
تمام متعلقہ ایئر لائنز سے درخواست کی جاتی ہے کہ وہ ایسے تمام افراد کو (جہاز پر) سوار ہونے کی اجازت دیں۔ اس مقصد کے لیے متعلقہ ہوائی اڈوں پر ایک سہولت ڈیسک بھی قائم کردیا گیا ہے۔
وزارتِ داخلہ اور انسدادِ منشیات کی جانب سے جمعہ کو جاری کردہ ایک خط میں کہا گیا کہ متعلقہ حکام سے درخواست کی جاتی ہے کہ وہ اس سلسلے میں مناسب تعاون اور مدد فراہم کریں۔
یہ خط وزارتِ دفاع اور وزارتِ خارجہ کے سیکرٹریوں کو ارسال کیا گیا۔
اس خط کی نقول اسلام آباد میں وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) اور پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی (پی سی اے اے ) کو بھی ارسال کردی گئی ہیں۔
ترجمان دفترِ خارجہ طاہر اندرابی نے بھی تصدیق کی ہے کہ پاکستان نے اسلام آباد مذاکرات 2026 میں شریک ممالک ایران اور امریکہ کے مندوبین اور صحافیوں کے لیے ویزا فری سفر کی سہولت فراہم کر دی ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل و چیف آف ڈیفنس فورسز سید عاصم منیر نے جمعرات کو امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں سہولت کاری کے حوالے سے پاکستان کے پختہ عزم کا اعادہ کیا۔ علاقائی کشیدگی میں ہفتوں سے جاری اضافے کے بعد اسلام آباد نے بات چیت کے ذریعے تصفیہ کرانے کی اپنی کوششوں کو تیز کردیا ہے۔
وزیراعظم آفس سے جاری کردہ سرکاری اعلامیے کے مطابق یہ عزم وزیراعظم ہاؤس میں منعقدہ ایک اعلیٰ سطح اجلاس کے دوران سامنے آیا جہاں فیلڈ مارشل عاصم منیر نے جاری سفارتی اقدامات پر نظرثانی کے لیے وزیراعظم سے ملاقات کی۔
وزیراعظم اور فیلڈ مارشل نے کشیدگی میں بتدریج کمی پر اطمینان کا اظہار کیا جبکہ جنگ بندی کو برقرار رکھنے اور ایک پائیدار امن معاہدے کی جانب پیش قدمی کی ضرورت پر زور دیا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے امن کے عمل میں شامل فریقین کی شمولیت کو سراہا اور سفارتی کامیابی کے امکانات کے حوالے سے پرامیدی کا اظہار کیا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے امن کے عمل میں شامل فریقین کی شمولیت کو سراہا اور سفارتی بریک تھرو کے امکانات کے حوالے سے پُرامیدی کا اظہار کیا۔
انہوں نے آنے والے وفود کو پاکستان کی جانب سے دوبارہ دعوت دی اور انہیں ان کے قیام کے دوران احترام اور تعاون کا یقین دلایا۔
یہ ملاقات واشنگٹن اور تہران سے سینئر وفود کے رواں ہفتے کے آخر میں اسلام آباد کے متوقع دورے سے قبل ہوئی ہے۔
یہ تنازع 28 فروری کو اسرائیل اور امریکہ کے مشترکہ حملوں کے بعد شروع ہوا تھا جس میں ایران کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ ان حملوں کے نتیجے میں ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی شہادت ہوئی اور تہران کی جانب سے خلیج اور اسرائیل میں اہداف کے خلاف جوابی حملوں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔
اس کشیدگی نے وسیع علاقائی جنگ کے خدشات کو جنم دیا، جس پر عالمی طاقتوں کی جانب سے تحمل کے فوری مطالبات سامنے آئے۔ پاکستان، جس کے واشنگٹن اور تہران دونوں کے ساتھ اسٹریٹجک تعلقات ہیں، حالیہ ہفتوں میں ایک اہم ثالث کے طور پر سامنے آیا ہے۔ مزید کشیدگی کو روکنے کی کوششوں کے دوران دونوں حریفوں کے درمیان پیغامات پہنچانے کے لیے پاکستان کے سفارتی ذرائع استعمال کیے گئے۔
8 اپریل کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ممکنہ فوجی کارروائی کے لیے مقرر کردہ ڈیڈ لائن ختم ہونے سے کچھ دیر پہلے دو ہفتوں کی جنگ بندی پر اتفاق کیا گیا، جس نے مذاکرات کے لیے ایک محدود موقع فراہم کیا۔
وائٹ ہاؤس میں پریس سیکرٹری کیرولین لیوٹ نے کہا کہ نائب صدر جے ڈی وینس کی قیادت میں امریکی مذاکراتی ٹیم طویل مدتی تصفیے کے لیے مذاکرات کی خاطر رواں ہفتے کے آخر میں پاکستان کا دورہ کرے گی۔
ایک بڑی سفارتی پیش رفت میں پاکستان اسلام آباد کی ثالثی میں ہونے والی دو ہفتوں کی عارضی جنگ بندی کے بعد جمعہ (آج) سے ایران امریکہ مذاکرات کی میزبانی کے لیے تیار ہے، جس کی وجہ سے 40 سے زائد دنوں کے شدید تنازع میں عارضی وقفہ آیا ہے۔
تہران اور واشنگٹن کے درمیان عارضی جنگ بندی کے معاہدے کو مستقل بنیادوں پر استوار کرنے کے لیے اہم فریقین کے اعلیٰ سطح کے وفود نے پاکستانی دارالحکومت پہنچنا شروع کر دیا ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ نے بدھ کو اعلان کیا کہ نائب صدر جے ڈی وینس واشنگٹن کے وفد کی قیادت کریں گے، جس میں اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر شامل ہوں گے۔ مذاکرات میں ایران کی نمائندگی اسپیکر پارلیمنٹ باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی کریں گے۔
اس سلسلے میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کو برطانیہ کی وزیر داخلہ یویٹ کوپر کی ٹیلی فون کال موصول ہوئی۔ کوپر نے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ کی کاوشوں کو سراہا اور جنگ بندی کے حصول میں پاکستان کے کردار پر خراج تحسین پیش کیا اور خطے میں پائیدار امن و استحکام کے لیے پاکستان کی مسلسل کوششوں کی حمایت کا اظہار کیا۔ دونوں رہنماؤں نے قریبی دوطرفہ تعلقات کی مضبوطی کا اعادہ کیا اور تعاون کو مزید بڑھانے کا عزم کیا۔
وزیر داخلہ کا سیکورٹی انتظامات کا جائزہ
وزیر داخلہ محسن نقوی نے جمعہ کو اعلیٰ سطح کے اجلاس کی صدارت کی جس میں تاریخی امریکہ ایران امن مذاکرات کے لیے سیکورٹی اور دیگر انتظامات کا جائزہ لیا گیا اور ان مذاکرات کی میزبانی کو پاکستان کے لیے ایک بڑا اعزاز قرار دیا۔اجلاس میں جس میں وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری اور وزارت خارجہ، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی، آنے والے غیر ملکی وفود کے لیے جامع سیکورٹی پلان کا جائزہ لیا گیا۔ حالیہ جنگ بندی کے تناظر میں وزیر داخلہ نے اس بات پر زور دیا کہ مہمانوں کی مہمان نوازی اور حفاظت کو یقینی بنانا اولین ترجیح ہے۔
سخت سیکورٹی اقدامات کے تحت یہ فیصلہ کیا گیا کہ ریڈ زون کو مکمل طور پر سیل کر دیا جائے گا اور وہاں داخلہ صرف مجاز افراد تک محدود ہوگا۔ صورتحال کی براہ راست نگرانی کے لیے وزارت داخلہ کے اندر ایک خصوصی کنٹرول روم قائم کر دیا گیا ہے۔
اجلاس میں وفاقی سیکرٹری داخلہ، چیف کمشنر، آئی جی اسلام آباد پولیس، کمشنر راولپنڈی، ڈی جی ایف آئی اے، ڈپٹی کمشنر اسلام آباد، اور رینجرز و فرنٹیئر کانسٹیبلری کے نمائندوں نے شرکت کی۔