دنیا

برطانیہ کو ایران جنگ کے بعد نئی سمت اختیار کرنا ہوگی، کیئر اسٹارمر

  • اس بحران نے برطانیہ میں ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ کیا ہے، برطانوی وزیراعظم
شائع اپ ڈیٹ

برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے کہا ہے کہ ایران جنگ کو برطانیہ کے لیے ایک فیصلہ کن موڑ بننا چاہیے، اور حکومت ایک زیادہ غیر مستحکم اور خطرناک عالمی ماحول سے نمٹنے کے لیے معیشت اور دفاع کو مضبوط بنائے گی۔ ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جنگ بندی کے اعلان کے باوجود آبنائے ہرمز تاحال تقریباً بند ہے، جس سے توانائی کی عالمی سپلائی شدید متاثر ہوئی ہے۔

کیئر اسٹارمر نے کہا کہ اس بحران نے برطانیہ میں ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ کیا ہے اور مستقبل میں مہنگائی اور معاشی دباؤ مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔ انہوں نے اس صورتحال کو لائن ان دی سینڈ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملک کو گزشتہ دو دہائیوں کے مسلسل بحرانوں جیسے 2008 کا مالیاتی بحران، بریگزٹ، کووڈ وبا اور یوکرین جنگ کے بعد اب ایک نئی سمت اختیار کرنا ہوگی۔

انہوں نے زور دیا کہ برطانیہ کو توانائی، دفاع اور معاشی سلامتی کے شعبوں میں خود کو مضبوط کرنا ہوگا تاکہ آئندہ چیلنجز کا مقابلہ کیا جا سکے۔ 2024 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد اسٹارمر کو معاشی دباؤ اور سیاسی چیلنجز کا سامنا ہے، تاہم انہوں نے ایران کے خلاف امریکی کارروائی میں شامل نہ ہونے کے فیصلے کو عوامی حمایت ملنے پر اسے اپنی پالیسی کی کامیابی قرار دیا ہے۔