پاکستان

ایرانی وزیر خارجہ نے پاکستان کی ثالثی میں مذاکرات سے انکار کی رپورٹس کی تردید کردی

  • عباس عراقچی نے پاکستان کی امن کے لیے کوششوں پر گہری شکرگزاری بھی ظاہر کی ہے
شائع April 4, 2026 اپ ڈیٹ April 5, 2026

ایرانی وزیرِ خارجہ سید عباس عراقچی نے ہفتے کے روز کہا ہے کہ ایران نے کبھی بھی مذاکرات کے لیے اسلام آباد جانے سے انکار نہیں کیا، اور پاکستان کی امن قائم رکھنے کی کوششوں کو سراہا ہے۔

انہوں نے بعض میڈیا رپورٹس کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ایران پاکستان کی کوششوں کا گہرا شکر گزار ہے اور اس نے کبھی بھی اسلام آباد جانے سے انکار نہیں کیا۔

عراقچی نے اپنی ایکس پوسٹ میں کہا: ”ہم اس غیر قانونی جنگ کے جامع اور دیرپا خاتمے کی شرائط کو اہمیت دیتے ہیں جو ہم پر مسلط کی گئی ہے۔“ انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے مؤقف کو امریکی میڈیا غلط انداز میں پیش کر رہا ہے۔

ایرانی وزیرِ خارجہ کے پیغام کو ری ٹویٹ کرتے ہوئے، نائب وزیراعظم اور وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے عراقچی کی پاکستان کی خطے میں امن قائم رکھنے کی کوششوں سے متعلق تبصروں کی تعریف کی۔

نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا: ”آپ کی وضاحت واقعی قابلِ ستائش ہے، میرے عزیز بھائی“، اور ایرانی وزیرِ خارجہ کو ٹیب بھی کیا۔

ایک سوال کے جواب میں کہ ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے اسلام آباد میں چار وزرائے خارجہ کے اجلاس کے بعد مبینہ طور پر کہا کہ ایران پاکستان کی قیادت میں مذاکرات یا ملاقاتوں میں شامل نہیں، دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے 2 اپریل کو بتایا کہ ایرانی ترجمان کے الفاظ کو غلط انداز میں پیش کیا گیا اور ایران کی طرف سے وضاحت بھی جاری کی گئی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایرانی سفیر نے وضاحت جاری کی، اور پاکستان اس وضاحت سے مکمل طور پر مطمئن ہے۔

ترجمان نے میڈیا کو خبردار کیا کہ بھارت میں جعلی معلومات پھیلانے والوں اور افغانستان میں ان کے ساتھیوں کے درمیان ایک گہرا تعلق موجود ہے، جو غلط خبریں پھیلا رہے ہیں۔ طاہر اندرابی نے کہا: ”جب یہ غلط معلومات پھیل رہی تھیں، میں واضح تھا کیونکہ میں نے ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان، سفیر بھائی اسماعیل باغئی کو براہِ راست بات کرتے سنا تھا۔ ان کے الفاظ کو غلط انداز میں پیش کیا گیا۔ ہم میڈیا کو نصیحت کرتے ہیں کہ بھارت کے ان جعلی خبروں پھیلانے والوں اور ان کے ساتھیوں پر کان نہ دھریں۔ یہ عادی جھوٹ بولنے والے ہیں۔ ایسے نازک اور حساس حالات میں، جب خطے میں دشمنی اور جنگ جیسا ماحول موجود ہے، ایسی جعلی خبریں انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتی ہیں۔“