آبنائے ہرمز کھولنے کیلئے عالمی کوششیں تیز، ٹرمپ اور ایران کی ایک دوسرے کو دھمکیاں
- دھمکیوں کے بعد تیل کی قیمتیں بڑھ کر تقریباً 108 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئیں
امریکہ اور ایران کے درمیان جاری جنگ نے عالمی توانائی کی ترسیل اور معیشت پر شدید اثرات ڈالنا شروع کر دیے ہیں، جبکہ آبنائے ہرمز کی بندش نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف مزید سخت حملوں کی دھمکیوں کے بعد تیل کی قیمتیں بڑھ کر تقریباً 108 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئیں، جس سے دنیا بھر میں مہنگائی اور سپلائی چین کے مسائل بڑھنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
ایران نے امریکی اور اسرائیلی حملوں کے جواب میں آبنائے ہرمز کو مؤثر طور پر بند کر دیا ہے، جہاں سے دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل کی ترسیل ہوتی ہے۔ اس اقدام کے باعث درجنوں ممالک متبادل راستوں کی تلاش میں مصروف ہیں۔ برطانیہ کی سربراہی میں تقریباً 40 ممالک کا ہنگامی اجلاس بھی ہوا، تاہم کسی حتمی حکمت عملی پر اتفاق نہ ہو سکا۔
امریکی حملوں میں تہران اور کرج کے درمیان زیرِ تعمیر پل کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں 8 افراد ہلاک اور 95 زخمی ہوئے۔ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اس حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ شہری تنصیبات کو نشانہ بنانے سے ایران کو جھکایا نہیں جا سکتا۔
ادھر یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالاس نے ایران کے اس منصوبے کو مسترد کر دیا جس کے تحت بحری جہازوں سے گزرنے کے لیے فیس لینے کی تجویز دی گئی ہے، اور اسے بین الاقوامی قوانین کے خلاف قرار دیا۔
ایرانی فوج نے خبردار کیا ہے کہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے خلاف مزید شدید حملے کیے جائیں گے، جبکہ خطے میں کشیدگی بڑھنے کے باعث عالمی مالیاتی منڈیاں بھی دباؤ کا شکار ہیں۔ ماہرین کے مطابق اگر یہ تنازع طویل ہوا تو دنیا بھر میں توانائی بحران اور معاشی سست روی مزید گہری ہو سکتی ہے۔