اسحاق ڈار کا دورہ بیجنگ، ایران کی صورتحال پر چین اور پاکستان کا قریبی اسٹریٹجک تعاون پر اتفاق
- وزیر خارجہ کی چینی ہم منصب سے ملاقات، دوطرفہ تعلقات سمیت علاقائی و عالمی امور پر مشاورت
چینی وزارت خارجہ کی ترجمان ماؤ ننگ نے کہا ہے کہ نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار کے آج سے شروع ہونے والے دورہ چین کے دوران دونوں ممالک ایران کی صورتحال پر اسٹریٹجک رابطوں اور ہم آہنگی کو مزید مستحکم کریں گے۔
ترجمان نے ان خیالات کا اظہار ایک پریس بریفنگ کے دوران کیا، جس کی ویڈیو سرکاری چینی انگریزی اخبار چائنا ڈیلی نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر شیئر کی ہے۔
نائب وزیراعظم اسحاق ڈار ایک روزہ دورے پر بیجنگ پہنچ چکے ہیں۔ دفتر خارجہ کے مطابق اسحاق ڈار اور چینی وزیر خارجہ وانگ ای ملاقات کے دوران دوطرفہ تعلقات کا جائزہ لیں گے اور باہمی دلچسپی کے علاقائی و عالمی امور پر تبادلہ خیال کریں گے۔
نائب وزیراعظم کا رواں برس بیجنگ کا یہ دوسرا دورہ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب پاکستان مشرقِ وسطیٰ کے متحارب فریقین کے درمیان ثالثی کی کوششیں کر رہا ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی کے مطابق یہ دورہ چینی وزیر خارجہ وانگ ای کی دعوت پر کیا جا رہا ہے، جو خطے میں بڑھتی ہوئی عدم استحکام کی صورتحال کے تناظر میں اہم اسٹریٹجک اقدام ہے۔ دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ پاکستان اور چین کے درمیان ہمہ جہت اسٹریٹیجک تعاون کی شراکت داری قائم ہے، جس میں علاقائی اور عالمی مسائل پر قریبی مشاورت کا تسلسل برقرار رہتا ہے۔ یہ دورہ دونوں ممالک کو علاقائی صورتحال سمیت باہمی دلچسپی کے امور پر تفصیلی بات چیت کا موقع فراہم کرے گا۔
یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب پاکستان حال ہی میں سعودی عرب، مصر اور ترکیہ کے وزرائے خارجہ کے ساتھ چار فریقی اجلاس کی میزبانی کر چکا ہے، جس کا مقصد مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی کا سفارتی حل تلاش کرنا ہے۔ دفتر خارجہ نے مزید بتایا کہ اسحاق ڈار نے کندھے کی ہڈی میں معمولی فریکچر اور ڈاکٹروں کے آرام کے مشورے کے باوجود دورہ چین کو ترجیح دی، جو پاک چین تعلقات کی اہمیت کا عکاس ہے۔
گزشتہ روز چینی ترجمان ماؤ ننگ نے واضح کیا تھا کہ بیجنگ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کے لیے پاکستان کی کوششوں کا معترف ہے اور کشیدگی کم کرنے میں اس کے کردار کی حمایت کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ چین ان تمام کوششوں کی حمایت کرتا ہے جو تناؤ میں کمی اور مذاکرات کی بحالی کے لیے مددگار ہوں اور وہ خطے میں جنگ بندی اور استحکام کے لیے پاکستان سمیت دیگر ممالک کے ساتھ تعاون بڑھانے کے لیے تیار ہے۔