سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں ہنگامی اجلاس سے قبل دھماکوں اور خطرے کی وارننگ
- گزشتہ ماہ ایران کے خلاف امریکی اسرائیل جنگ شروع ہونے کے بعد سے خلیجی ریاست سینکڑوں ایرانی میزائلوں اور ڈرونز کے حملوں کی زد میں آچکی ہے
سعودی ایئر ڈیفنس نے بدھ کے روز ریاض میں ایک ”بیلسٹک خطرے“ کا مقابلہ کیا ہے، سرکاری ٹی وی کے مطابق یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب شہر میں کئی زور دار دھماکوں کی آوازیں گونجیں اور کچھ رہائشیوں کو پہلی بار فون کے ذریعے دشمن کے فضائی خطرے کی وارننگ موصول ہوئی۔
بعد میں ایک پیغام جاری کیا گیا کہ خطرہ ختم ہو چکا ہے اور رہائشیوں سے کہا گیا کہ وہ ” متاثرہ مقام “ کے قریب نہ جائیں۔ اس واقعے کی مزید تفصیلات فی الحال دستیاب نہیں ہیں۔
یاد رہے کہ پچھلے ماہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد سے خلیجی ریاست پر سینکڑوں ایرانی میزائل اور ڈرون حملے ہو چکے ہیں، جن میں سے زیادہ تر کو حکام کے مطابق بروقت ناکام بنایا گیا۔
لیکن بدھ کے روز ہونے والا حملہ شہر کے کئی رہائشیوں کے لیے پہلا موقع تھا جب انہوں نے دھماکوں کی آواز سنی یا دشمن کے خطرے کی وارننگ موصول کی۔
دو عینی شاہدین نے کہا کہ انہوں نے شہر کے مغربی کنارے، ڈپلومیٹک کوارٹرز کے قریب، میزائلوں کے انٹرسپشن کے مناظر دیکھے، جہاں غیر ملکی مشنز واقع ہیں۔
یہ حملہ اس سے چند گھنٹے قبل ہوا جب سعودی عرب عرب اور اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ کا مشاورتی اجلاس منعقد کرنے جا رہا تھا تاکہ ایران کی جنگ کے دوران علاقائی سلامتی اور استحکام کو فروغ دینے کے طریقے تلاش کیے جا سکیں۔
تقریباً تین ہفتے بعد بھی جنگ میں کشیدگی میں کمی کے آثار کم ہیں، جس نے خطے کو گھیر لیا اور عالمی توانائی کی فراہمی میں بے مثال خلل پیدا کیا ہے۔
ترکی کے ایک سفارتی ذرائع کے مطابق اجلاس میں آذربائیجان، بحرین، مصر، اردن، کویت، پاکستان، قطر، شام، ترکی اور متحدہ عرب امارات کے نمائندے شرکت کریں گے۔