کاروبار اور معیشت

پیٹرول اورڈیزل کی قیمتیں برقرار رکھنے کا فیصلہ

  • پیٹرول کی قیمت 321.17 روپے فی لٹر اور ایچ ایس ڈی کی قیمت 335.86 روپے فی لٹر رکھی گئی
شائع اپ ڈیٹ

تازہ ترین ایندھن کی قیمتوں میں ترمیم کے تحت جو 14 مارچ سے نافذ العمل ہے، پیٹرولیم لیوی (پی ایل) پیٹرول کی ایکس ڈیپو قیمت کا 32 فیصد اور ہائی اسپیڈ ڈیزل (ایچ ایس ڈی) کی ایکس ڈیپو قیمت کا 16 فیصد بنتی ہے۔ پی ایل کو فی لٹر 55 روپے مقرر کیے جانے کے بعد یہ اعداد و شمار موجودہ ہفتہ وار قیمتوں کے ڈھانچے میں ٹیکس کے اہم حصے کو ظاہر کرتے ہیں۔

ہفتہ کے روز پیٹرولیم ڈویژن نے اگلے ہفتے کے لیے پیٹرول اور ایچ ایس ڈی کی قیمتیں برقرار رکھنے کا اعلان کیا۔ پیٹرول کی قیمت 321.17 روپے فی لٹر اور ایچ ایس ڈی کی قیمت 335.86 روپے فی لٹر رکھی گئی۔ ڈویژن نے کہا کہ حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی موجودہ قیمتیں مزید حکم تک برقرار رکھی جائیں گی۔

مارچ کی نوٹیفکیشن کے مطابق،پٹرولیم لیوی(پی ایل) میں یکم مارچ 2026 سے اضافہ کیا گیا، یعنی امریکی-اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کے ایک دن بعد، جس کے تحت پی ایل 84.40 روپے فی لٹر سے بڑھا کر 105.37 روپے فی لٹر کر دیا گیا، یعنی 20.97 روپے فی لٹر یا 25 فیصد اضافہ۔ یکم مارچ کو زیادہ سے زیادہ ایکس ڈیپو قیمت 266.17 روپے فی لٹر نوٹیفائی کی گئی تھی اور سات مارچ کو یہ 321.17 روپے فی لٹر تک پہنچ گئی۔ یکم مارچ کو لیوی زیادہ سے زیادہ ڈیپو قیمت کا 31 فیصد تھی جبکہ سات مارچ کی ترمیم کے بعد 32 فیصد ہو گئی۔

ہائی اسپیڈ ڈیزل پر پی ایل سات مارچ 2026 کے ایکس ڈیپو قیمت 335.86 روپے فی لٹر کے لیے 55.24 روپے فی لٹر رہ گئی۔ پہلے یہ 76.21 روپے فی لٹر اور ایکس ڈیپو قیمت 280.86 روپے فی لٹر تھی۔

یہ اضافہ حکومت کی بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے عہد کے تحت غیر ٹیکس آمدنی کو زیادہ سے زیادہ کرنے کے مقصد کا حصہ ہے۔ اس وقت پیٹرول پر جنرل سیلز ٹیکس صفر فیصد برقرار ہے۔ اگر معیاری 18 فیصد جی ایس ٹی لاگو کی جائے تو کل ٹیکس کا بوجھ 40 فیصد سے زیادہ ہو جائے گا۔

حکومت کا بجٹ کے تحت پٹرولیم لیوی کا ہدف 1.47 ٹریلین روپے ہے جبکہ پچھلے سال یہ 1.28 ٹریلین روپے تھا۔ موجودہ مالی سال کے پہلے چھ ماہ (جولائی تا دسمبر) میں 822 ارب روپے پیٹرولیم لیوی کے تحت وصول کیے جا چکے ہیں۔

پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن (پی پی ڈی اے) نے جمعہ کو حکومت سے مطالبہ کیا کہ ڈیلرز کے منافع کا مارجن 8 فیصد تک بڑھایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ پچھلے ہفتے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ 55 روپے کا ہوا ہے، جس سے نہ صرف عوام پر بوجھ بڑھا بلکہ پیٹرولیم ڈیلرز کے لیے مالی مشکلات بھی پیدا ہو گئی ہیں کیونکہ اب انہیں مصنوعات کی خریداری کے لیے زیادہ رقم ادا کرنی پڑ رہی ہے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026