کاروبار اور معیشت

سی سی پی کا سول ایوی ایشن سیکٹر کی بحالی کے لیے طویل مدتی اقدامات کا مطالبہ

  • سول ایوی ایشن کو ٹکڑوں میں نہیں چلایا جا سکتا، سی سی پی کی رپورٹ میں اہم انکشافات
شائع March 9, 2026 اپ ڈیٹ March 9, 2026 05:03pm

کمپیٹیشن کمیشن آف پاکستان (سی سی پی) نے ملک کے سول ایوی ایشن سیکٹر کی مکمل ڈھانچہ جاتی بحالی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس شعبے کو الگ تھلگ ٹکڑوں میں نہیں چلایا جا سکتا۔

پیر کو آسمانوں میں مقابلہ 2006 سے 2025 تک کے عنوان سے جاری کی گئی رپورٹ کے مطابق گزشتہ 19 برس میں مسافروں کی تعداد 89 فیصد اضافے کے ساتھ 24.3 ملین تک پہنچ گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق مجموعی سالانہ ترقی 3.42فیصد رہی مگر یہ اضافہ صرف بین الاقوامی سفر تک محدود رہا، جبکہ مقامی ٹریفک 0.19فیصد کے ساتھ تقریباً جمود کا شکار رہی۔ سی سی پی کے مطابق پاکستان میں ایک متحد قومی وژن کی کمی رہی ہے اور ایوی ایشن کو تزویراتی معاشی شعبے کے بجائے محض ایک انتظامی فنکشن سمجھا گیا۔

مطالعہ میں کئی ڈھانچہ جاتی خلاء کی نشاندہی کی گئی ہے، جن میں مربوط حکمت عملی کا فقدان، ریگولیٹری و مالیاتی اداروں میں پالیسی کا عدم تسلسل، مقامی ایئر لائنز کی مالی کمزوری، ہوائی اڈوں کا کم استعمال اور خلیجی ایئر لائنز پر بڑھتا ہوا انحصار شامل ہے۔ علاقائی تناؤ اور فضائی حدود کی پابندیوں نے پاکستان کی حساسیت کو واضح کیا ہے، جس کے لیے غیر ملکیوں کے بجائے ایک مضبوط اور خود انحصار مقامی شعبے کی ضرورت ہے۔

سی سی پی نے ایک نیشنل سول ایوی ایشن روڈ میپ اور طویل مدتی اصلاحاتی منصوبے کی تجویز دی ہے، تاکہ سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول پیدا کیا جا سکے۔ اہم ترجیحات میں کراچی اور لاہور کے ٹرمینلز کی جدید کاری، اسکردو اور گلگت جیسے ثانوی ہوائی اڈوں کی ترقی، ای-گیٹس، اور ڈیجیٹل ڈیٹا حب کا قیام شامل ہے۔

رپورٹ میں مزید سفارش کی گئی ہے کہ ایوی ایشن کے لیے مخصوص فنانسنگ، ٹیکسوں کی معقولیت، نجی شعبے کی شرکت، سستی ایئر لائنزکا فروغ اور مقامی سطح پر جہازوں کی مرمت کی سہولیات تیار کی جائیں۔ آخر میں زور دیا گیا کہ مارکیٹ میں سب کے لیے یکساں مواقع فراہم کیے جائیں اور پرانے مراعات یافتہ نظام کا خاتمہ کر کے اس شعبے کو پائیدار اور مسابقتی ترقی کی طرف موڑا جائے۔