ایف سی اے اور کیو ٹی اے متغیر اجزاء، ریلیف پیکج بنیادی ٹیرف کا حصہ ہے، پاور ڈویژن
- حالیہ میڈیا رپورٹس نے مثبت فیول کاسٹ ایڈجسٹمنٹ کو بجلی ریلیف پیکج سے جوڑ کر غیر ضروری الجھن پیدا کردی ہے، ترجمان پاور ڈویژن
پاور ڈویژن نے جمعہ کو وضاحت کی ہے کہ صنعت کے لیے وزیرِ اعظم کے 4.04 روپے فی یونٹ کے ریلیف پیکج کو بنیادی ٹیرف کا حصہ بنا دیا گیا ہے جبکہ فیول کاسٹ ایڈجسٹمنٹ (ایف سی اے) اور سہ ماہی ٹیرف ایڈجسٹمنٹ (کیو ٹی اے) متغیر اجزاء (ویری ایبل کمپوننٹس) ہیں جو ماہانہ اور سہ ماہی بنیادوں پر لاگو ہوتے ہیں۔
ترجمان پاور ڈویژن نے ایک بیان میں کہا کہ حالیہ میڈیا رپورٹس نے مثبت فیول کاسٹ ایڈجسٹمنٹ کو وزیرِ اعظم شہباز شریف کے اعلان کردہ بجلی ریلیف پیکج سے جوڑ کر غیر ضروری الجھن پیدا کردی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ دونوں ٹیرف کے تعین کے فریم ورک میں الگ الگ عناصر ہیں اور ان کا آپس میں کوئی براہِ راست تعلق نہیں ہے۔
ترجمان نے وضاحت کی کہ فیول کاسٹ ایڈجسٹمنٹ اور سہ ماہی ٹیرف ایڈجسٹمنٹ معمول کے ریگولیٹری طریقہ کار ہیں جن کا اطلاق کسی مخصوص مدت کے دوران بجلی پیدا کرنے کی اصل لاگت میں ہونے والی تبدیلیوں اور سسٹم کی کارکردگی کی بنیاد پر سختی سے کیا جاتا ہے۔
ان ایڈجسٹمنٹس کی شرح ایندھن کی موجودہ قیمتوں اور بجلی کی پیداوار کے طریقہ کار کے مطابق مثبت یا منفی ہوسکتی ہے اور ان کا اطلاق منظور شدہ ٹیرف نظام کے تحت مکمل شفافیت کے ساتھ کیا جاتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس کے مطابق ایف سی اے کی مد میں ہونے والا کوئی بھی اضافہ یا کمی صرف ایندھن کی اصل لاگت میں ماہانہ بنیادوں پر ہونے والی تبدیلیوں کی عکاسی کرتی ہے اور اس کا مطلب کسی پالیسی ریلیف کی واپسی یا اس میں کمی ہرگز نہیں ہے۔ اسی طرح، سہ ماہی ٹیرف ایڈجسٹمنٹس وقتاً فوقتاً تصدیق شدہ اخراجات کے فرق کو پورا کرنے کے لیے لاگو کی جاتی ہیں اور یہ ایف سی اے کے اثرات کو متوازن یا کم بھی کر سکتی ہیں۔
انہوں نے واضح طور پر کہا کہ وزیرِ اعظم کا 4.04 روپے فی یونٹ کا ریلیف مکمل طور پر مؤثر ہے اور بنیادی ٹیرف کے حصے کے طور پر اس میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے۔ ایف سی اے یا کیو ٹی اے کا اطلاق اس ریلیف سے آزاد ہے اور یہ بجلی ٹیرف کے طریقہ کار کے ایک معیاری فیچر کے طور پر کام کرتا ہے جو تمام صارفین پر لاگو ہوتا ہے۔
حالیہ ایف سی اے کو وزیرِ اعظم کے ریلیف پیکج میں کمی یا اس کی واپسی سے جوڑنا، ٹیرف کے طریقہ کار کو غلط رنگ دینے کے مترادف ہے۔ اعلان کردہ ریلیف بدستور برقرار ہے جبکہ ایف سی اے اور کیو ٹی اے کا اطلاق طے شدہ ریگولیٹری فریم ورک کے تحت صرف اصل لاگت کے مطابق سختی سے کیا جارہا ہے۔
ایک الگ وضاحت میں پاور ڈویژن نے جنوری 2026 میں قومی بجلی کے نظام کی غیر معمولی کارکردگی پر بھی روشنی ڈالی۔
چیلنجنگ نیٹ ورک اور ہائیڈروولوجیکل حالات کے باوجود جن میں نہروں کی بندش، شمالی اور جنوبی علاقوں میں دھند کے باعث ٹرانسمیشن لائنوں کا ٹرپ ہونا اور شدید سردی کی لہر شامل ہے، سسٹم نے جنوری کے مہینے میں اب تک کی سب سے زیادہ 16,584 میگاواٹ کی پیک جنریشن اور 12,239 میگاواٹ کی اوسط پیداوار حاصل کی۔ بجلی کی اصل پیداوار 9,106 گیگا واٹ آور رہی جبکہ اندازہ 7,962 گیگا واٹ آور کا لگایا گیا تھا، یوں اصل پیداوار تخمینے سے تقریباً 14 فیصد زیادہ اور جنوری 2025 کے مقابلے میں 13 فیصد زائد رہی۔“
اس ماہ بجلی کی پیداوار میں بڑی رکاوٹوں کا سامنا رہا جن میں درج ذیل شامل ہیں: (i) کے-تھری میں 1,040 میگاواٹ کی جبری بندش؛ (ii) حویلی بہادر شاہ میں 1,180 میگاواٹ کی جبری بندش؛ (iii) ساہیوال کول پاور پلانٹ میں جزوی اور جبری بندش؛ اور (iv) سی-تھری میں ایندھن کی تبدیلی کے باعث 300 میگاواٹ کی بندش۔
پاور ڈویژن کے مطابق بیس لوڈ صلاحیت میں کمی اور پن بجلی کی محدود دستیابی کے باوجود قومی بجلی کے نظام کو میرٹ آرڈر ڈیسپیچ کی سخت پابندی کے ساتھ چلایا گیا۔ دستیاب تھرمل وسائل کا بہترین استعمال کیا گیا، پانی کی کمی کے پیشِ نظر پن بجلی کی پیداوار کا انتظام احتیاط سے کیا گیا اور ٹرانسمیشن کوریڈورز کی مسلسل نگرانی کی گئی۔ پیشگی حفاظتی اقدامات نے گرڈ کے استحکام کو یقینی بنایا اور بڑے پیمانے پر فنی خرابیوں یا وسیع پیمانے پر لوڈ مینجمنٹ (لوڈ شیڈنگ) کو روکنے میں مدد دی۔
ڈویژن نے مشکل حالات میں سسٹم آپریٹرز کی جانب سے دکھائی گئی مضبوطی اور پیشہ ورانہ مہارت کو سراہا۔
ڈویژن نے مزید کہا کہ جنوری 2026 میں ریفرنس ٹیرف کی دوبارہ ترتیب سے پیدا ہونے والے تجارتی اثرات کی تفصیلات سی پی پی اے-جی سے حاصل کی جا سکتی ہیں۔
فی الوقت، پانی کی بہتر آمد کی بدولت پن بجلی کے ذریعے سسٹم کی طلب کو مؤثر طریقے سے پورا کیا جا رہا ہے، جبکہ آر ایل این جی پر چلنے والا صرف ایک پاور پلانٹ فعال ہے۔ بجلی کی پیداوار کے لیے فرنس آئل کا بالکل استعمال نہیں کیا گیا، یہاں تک کہ افطار، تراویح اور سحر کے دوران طلب کے عروج پر بھی نہیں۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026