پاکستان

قومی اسمبلی کمیٹی کی ایکسپورٹ امپورٹ بینک بل دوبارہ تیار کرنے کی ہدایت

  • بل میں آزاد ڈائریکٹر کی نئی تعریف متعارف کرائی گئی ہے اور غیر ضروری شقیں حذف کی گئی ہیں تاکہ مفہوم واضح ہو
شائع February 26, 2026 اپ ڈیٹ February 26, 2026 10:02am

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے بدھ کو وزارت خزانہ کو ہدایت دی ہے کہ وہ ایکسپورٹ امپورٹ بینک آف پاکستان (ترمیمی) بل 2026 کو ارکان کی آرا کی روشنی میں دوبارہ تیار کرے۔

22ویں اجلاس کی صدارت نوید قمر نے کی، جس میں کمیٹی کے ارکان نے بل کے مختلف نکات پر تفصیلی غور کیا۔ وزارتِ خزانہ کے سیکرٹری نے بتایا کہ ایکسپورٹ امپورٹ بینک آف پاکستان (ترمیمی) ایکٹ 2025 متعارف کرایا گیا تاکہ بینک کے انتظام، گورننس اور نگرانی کے فریم ورک کو مضبوط کیا جا سکے اور اسے اسٹیٹ اونڈ انٹرپرائزز (گورننس اینڈ آپریشنز) ایکٹ 2023 اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے ریگولیٹری معیار کے مطابق ڈھالا جا سکے۔

بل میں آزاد ڈائریکٹر کی نئی تعریف متعارف کرائی گئی ہے اور غیر ضروری شقیں حذف کی گئی ہیں تاکہ مفہوم واضح ہو۔ بل میں صدر بینک کی تقرری، مدت، جائزہ، استعفیٰ اور برطرفی کے لیے پرفارمنس بیسڈ فریم ورک شامل کیا گیا ہے، جس میں وزارتِ خزانہ کے نمائندے کی لازمی شرکت بھی شامل ہے۔

کمیٹی نے بل پر تفصیلی غور کے بعد اس میں شامل کچھ شقوں پر سنجیدہ تحفظات کا اظہار کیا اور ہدایت دی کہ بل کو ارکان کی سفارشات کی روشنی میں دوبارہ تیار کیا جائے۔ بل کی مزید غور و خوض اگلی میٹنگ تک ملتوی کر دیا گیا، اور وزارتِ خزانہ کو ہدایت دی گئی کہ نیا مسودہ پیشگی فراہم کیا جائے۔

اجلاس میں نیٹنگ آف فنانشل ارینجمنٹس بل 2025 اور پارلیمانی بجٹ آفس بل 2025 پر حکومت اور کمیٹی کے درمیان اتفاق رائے ریکارڈ کیا گیا۔ کمیٹی نے وزارتِ خزانہ کو ہدایت دی کہ دونوں بلوں کے درست اور مکمل مسودے اگلی میٹنگ میں پیش کیے جائیں۔

کمیٹی نے کمپنیز (ترمیمی) بل 2026 پر بھی غور کیا، جسے شازیہ مری نے پیش کیا تھا۔ کمیٹی نے مشاہدہ کیا کہ اسی نوعیت کا بل حال ہی میں منظور ہو چکا ہے اور اس کی وجہ سے دوبارہ قانون سازی کی ضرورت پر سوال اٹھا۔ تاہم، شازیہ مری نے کہا کہ ان کا بل کارپوریٹ سوشل رسپانسبلٹی (سی ایس آر) اخراجات کو نجی شعبے کے لیے لازمی بنانے کے لیے مختلف ہے۔ وزارتِ متعلقہ کو ہدایت دی گئی کہ سی ایس آر کے اخراجات کا تفصیلی ڈیٹا فراہم کرے تاکہ بل پر مزید غور کیا جا سکے۔

کمیٹی نے پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) کی منظوری بھی دی لیکن تفصیلی غور و خوض اگلی میٹنگ میں کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اجلاس میں رانا ادرات شریف خان، زیب جعفر، محمد عثمان اویسی، بلال فاروق طاہر، حنا ربانی کھر، شازیہ مری سمیت دیگر ارکان اور وزیرِ خزانہ، وزیرِ مملکت، سیکرٹری خزانہ اور چیئرمین ایف بی آر نے شرکت کی۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026