علاقائی ممالک کو برآمدات میں کمی، قومی اسمبلی کمیٹی کا تشویش کا اظہار، بریفنگ طلب
- قائمہ کمیٹی برائے تجارت نے وزارت دفاع، وزارت داخلہ، وزارت خارجہ اور اسٹیٹ بینک سے تفصیلی بریفنگ طلب کرنے کا فیصلہ کیا ہے
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت نے علاقائی ممالک کیلئے برآمدات میں کمی اور جمود پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وزارت دفاع، وزارت داخلہ، وزارت خارجہ اور اسٹیٹ بینک سے تفصیلی بریفنگ طلب کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ کمیٹی کا اجلاس چیئرمین جاوید حنیف خان کی زیر صدارت ہوا جس میں عالیہ کامران کے توجہ دلاؤ نوٹس پر غور کیا گیا۔
عالیہ کامران نے وزارت تجارت کی ٹیم، جس کی قیادت اسپیشل سیکریٹری سید حامد علی کر رہے تھے، سے استفسار کیا کہ وہ کسی ایسے ملک کا نام بتائیں جہاں پاکستان کی برآمدات میں نمایاں اضافہ ہوا ہو۔ انہوں نے کہا کہ ہمسایہ ممالک سے تعلقات میں بہتری کے باوجود تجارت یا تو صفر ہے یا نہایت محدود۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ گزشتہ دو دہائیوں سے برآمدات 25 سے 30 ارب ڈالر کے درمیان رہنے کے باوجود 60 ارب ڈالر کا ہدف کیسے حاصل کیا جائے گا۔
چیئرمین کمیٹی نے ریمارکس دیے کہ ہمسایہ ممالک کے ساتھ تجارت سکیورٹی خدشات کی نذر ہوتی دکھائی دیتی ہے، اس لیے متعلقہ حکام کو بلا کر جامع بریفنگ لی جائے۔ کمیٹی نے کوئٹہ ایکسپو سینٹر منصوبے پر بھی تفصیلی رپورٹ طلب کی، جسے مرکزی ترقیاتی ورکنگ پارٹی نے 4.629 ارب روپے سے زائد لاگت سے منظور کیا ہے تاہم فنڈز جاری نہیں ہوئے۔ بعض ارکان نے مجوزہ مقام کو سکیورٹی رسک قرار دیا۔
کمیٹی نے ایکسپورٹ ڈیولپمنٹ فنڈ سے چاول برآمد کنندگان کے لیے 15 ارب روپے کی مالی معاونت کی توثیق بھی کی تاکہ تقریباً ایک ارب ڈالر کی برآمدات کو سہارا دیا جا سکے۔ وزارت تجارت کے حکام کے مطابق بھارت کی جانب سے سبسڈی کے ساتھ عالمی منڈی میں واپسی سے قیمتیں گر گئی ہیں اور چاول کی برآمدات میں تقریباً 50 فیصد کمی آئی ہے۔ مجموعی برآمدی کمی 1.4 ارب ڈالر بتائی گئی جس کا بڑا حصہ چاول کے شعبے سے منسوب ہے۔ اس اسکیم کا اطلاق 23 جنوری 2026 سے 30 جون 2026 تک کی کھیپوں پر ہوگا اور ادائیگی کی مکمل وصولی کی شرط عائد ہوگی۔
اجلاس میں پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام کے تحت ایکسپورٹ ایکسیلیریٹر برائے ایس ایم ایز پر بھی غور ہوا۔ وزارت منصوبہ بندی نے مؤقف اختیار کیا کہ 2025-26 کے لیے ایک ہزار ارب روپے کا پی ایس ڈی پی مختص ہے اور فنڈز ترجیحات کے مطابق جاری کیے جاتے ہیں۔ کمیٹی نے بین الوزارتی ہم آہنگی، مالی شفافیت اور مؤثر عمل درآمد پر زور دیتے ہوئے متعلقہ اداروں کو آئندہ اجلاس میں ٹھوس تجاویز پیش کرنے کی ہدایت کی۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026