اسٹاک مارکیٹ: فروخت کا شدید دباؤ، 100 انڈیکس 3 فیصد سے زائد گر گیا
- بینچ مارک کے ایس ای انڈیکس 5,478.63 پوائنٹس کی کمی کے ساتھ 167,691.08 پوائنٹس پر بند
پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں پیر کو شدید مندی دیکھی گئی جہاں فروخت کے شدید دباؤ سے بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس میں تقریباً 5,500 پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی۔
تفصیلات کے مطابق اسٹاک مارکیٹ میں کاروبار کا آغاز مثبت زون میں ہوا، دوران ٹریڈنگ ایک موقع پر 100 انڈیکس 174,336.85 پوائنٹس کی بلند ترین سطح پر جاپہنچا، بعدازاں فروخت کا رجحان غالب آگیا جس سے 100 انڈیکس منفی زون میں داخل ہوگیا۔
دوپہر کے آغاز میں فروخت کے دباؤ میں مزید شدت آ گئی جس نے 100 انڈیکس کو اہم نفسیاتی حدوں سے نیچے دھکیل دیا، اگرچہ مارکیٹ بند ہونے کے قریب معمولی بحالی دیکھی گئی لیکن شدید مندی کے رجحان اور مارکیٹ میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ کے باعث یہ بہت ہی محدود رہی۔
کاروبار کے اختتام پر بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 5,478.63 پوائنٹس یا 3.16 فیصد کی تنزلی سے 167,691.08 پوائنٹس پر بند ہوا۔
بروکریج ہاؤس عارف حبیب لمیٹڈ ( اے ایچ ایل میں ریسرچ کی سربراہ ثناء توفیق نے بزنس ریکارڈر سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ” فروخت کا دباؤ جیو پولیٹیکل غیر یقینی صورتحال اور رول اوور ہفتے کی وجہ سے ہے۔“
تجزیہ کاروں نے اس گراوٹ کی وجہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے عالمی محصولات کی نئی شرح کے اعلان کے بعد امریکی تجارتی پالیسی کے حوالے سے پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال کی نئی لہر کو قرار دیا ہے۔
ہفتے کے اختتام پر ٹرمپ نے (ٹیرف کی) نئی شرح 10 فیصد مقرر کرنے کا اعلان کیا اور پھر اسے بڑھا کر 15 فیصد کردیا۔
ٹاپ لائن سیکیورٹیز نے اپنے مارکیٹ ریویو (جائزے) میں کہا ہے کہ کاروباری دن کے دوران انڈیکس 174,336 سے 166,886 پوائنٹس کی حد میں گردش کرتا رہا جس پر بڑی حد تک رول اوور ہفتے کے اثرات نمایاں رہے۔
بروکریج ہاؤس نے مزید بتایا کہ انڈیکس میں بھاری وزن رکھنے والی کمپنیوں—بشمول فوجی فرٹیلائزر کمپنی ، لکی سیمنٹ، اینگرو ہولڈنگز ، نیشنل بینک آف پاکستان اور حبیب بینک لمیٹڈ نے مارکیٹ کو نیچے گرانے میں اہم کردار ادا کیا، جنہوں نے مجموعی طور پر سیشن کے دوران بینچ مارک انڈیکس میں 1,797 پوائنٹس کی کمی کی۔
گزشتہ ہفتے امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی جغرافیائی و سیاسی کشیدگی نے عالمی مالیاتی منڈیوں میں غیر یقینی صورتحال اور تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باعث شدید منفی ردعمل کو جنم دیا، اس صورتحال کی وجہ سے پاکستان کے اسٹاک مارکیٹ انڈیکس میں بھی نمایاں گراوٹ دیکھی گئی۔
ہفتہ وار رپورٹ کے مطابق کے ایس ای 100 انڈیکس 6,434.02 پوائنٹس یا 3.6 فیصد کی کمی سے 173,169.70 پوائنٹس پر بند ہوا۔
عالمی سطح پر پیر کو ایشیا میں وال اسٹریٹ فیوچرز اور ڈالر کی قدر میں کمی دیکھی گئی کیونکہ امریکی ٹیرف کے حوالے سے ابہام نے سیل امریکہ (امریکی اثاثے بیچنے) کی فروخت کو دوبارہ ہوا دے دی۔ دوسری جانب رواں ہفتے ٹیکنالوجی کی بڑی کمپنی این ویڈیا کے نتائج سے پورے مصنوعی ذہانت کے شعبے پر سرمایہ کاروں کے اعتماد کا امتحان بھی متوقع ہے۔
عالمی منڈی میں سونے کی قیمتوں میں اضافہ ہوا جبکہ تیل کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی، جس کی وجہ امریکہ اور ایران کے درمیان جمعرات کو جنیوا میں ہونے والے مذاکرات کا اگلا دور ہے۔ تاہم معاہدہ طے نہ پانے کی صورت میں امریکی فوجی حملوں کا خطرہ اب بھی برقرار ہے۔
دوسری جانب غیر یقینی صورتحال اس وقت مزید بڑھ گئی جب امریکی سپریم کورٹ نے صدر ٹرمپ کے ہنگامی ٹیرف کو کالعدم قرار دے دیا، جس کے بعد انہوں نے دنیا کے دیگر ممالک پر 10 فیصد نیا ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کیا، تاہم بعد ازاں اسے بڑھا کر 15 فیصد کر دیا گیا، اس اقدام نے بظاہر ان کے بعض حکومتی عہدیداروں کو بھی حیران کردیا۔
ابھی یہ واضح نہیں ہو سکا کہ یہ ٹیرف کب نافذ کیے جائیں گے، کن اشیا کو اس سے استثنا حاصل ہوگا اور آیا تمام ممالک پر 15 فیصد شرح لاگو کی جائے گی یا نہیں۔ سابقہ قواعد کے تحت برطانیہ اور آسٹریلیا سمیت بعض ممالک پر 10 فیصد ٹیرف عائد تھا، جبکہ ایشیا کے متعدد ممالک کو نسبتاً زیادہ شرحوں کا سامنا تھا۔
غیر یقینی صورتحال برقرار رہنے کے باعث ایشیائی اسٹاک مارکیٹس میں ملا جلا رجحان دیکھا گیا جبکہ جاپان کے علاوہ ایشیا پیسیفک حصص پر مشتمل ایم ایس سی آئی کا وسیع ترین انڈیکس کم کاروباری حجم کے دوران 0.8 فیصد اضافے کے ساتھ ٹریڈ کرتا رہا۔
جاپان کا نکی انڈیکس تعطیل کے باعث بند رہا، تاہم اس کے فیوچرز 1.0 فیصد کمی کے ساتھ 56,605 پوائنٹس پر ٹریڈ ہوئے جب کہ اس سے قبل کیش مارکیٹ 56,825 پوائنٹس پر بند ہوئی تھی۔
کم ٹیرف کے امکانات نے جنوبی کوریا کی اسٹاک مارکیٹ میں تیزی کے رجحان کو مزید تقویت دی جہاں انڈیکس میں 1.2 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا جبکہ گزشتہ ہفتے یہ پہلے ہی 5.5 فیصد اضافے کے ساتھ تاریخی بلند ترین سطح پر پہنچ چکا تھا۔ اسی طرح تائیوان کی مارکیٹ بھی 1.2 فیصد اضافے کے ساتھ نئی ریکارڈ سطح تک جا پہنچی۔
دریں اثناء انٹر بینک مارکیٹ میں پیر کے روز امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر میں معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ کاروبار کے اختتام پر مقامی کرنسی 279.55 پر بند ہوئی، یعنی ڈالر کے مقابلے میں صرف ایک پیسے کا اضافہ ہوا۔
تمام شیئر انڈیکس کا حجم پچھلے بندش کے 537.64 ملین سے کم ہو کر 461.26 ملین رہا۔
تاہم، حصص کی مالیت پچھلے سیشن کے 23.79 ارب روپے سے بڑھ کر 24.93 ارب روپے ہو گئی۔
کے الیکٹرک لمیٹڈ حجم میں سب سے سرفہرست رہی جس کے 36.06 ملین حصص ٹریڈ ہوئے، اس کے بعد ورلڈ کال ٹیلی کام کے 33.67 ملین اور بینک آف پنجاب کے 26.67 ملین حصص کا کاروبار ہوا۔
پیر کو مجموعی طورپر 479 کمپنیوں کے حصص کی خرید و فروخت ہوئی، جن میں 42 میں اضافہ، 389 میں کمی، اور 48 میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔