امریکہ ایران کشیدگی کم کرنے کی کوششیں، خام تیل کی قیمتیں گرگئیں
- برینٹ کروڈ کے سودے 12 سینٹ یا 0.2 فیصد کمی کے ساتھ 70.23 ڈالر فی بیرل پر آ گئے
ایشیا میں جمعرات کی صبح تیل کی قیمتوں میں معمولی کمی دیکھنے میں آئی، ایک روز قبل 4 فیصد اضافے کے بعد سرمایہ کار امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کا جائزہ لے رہے ہیں، جبکہ دونوں ممالک نے اہم تیل پیدا کرنے والے خطے میں عسکری سرگرمیاں بھی تیز کر دی ہیں۔
برینٹ کروڈ کے سودے 12 سینٹ یا 0.2 فیصد کمی کے ساتھ 70.23 ڈالر فی بیرل پر آ گئے، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کروڈ 8 سینٹ یا 0.1 فیصد کم ہو کر 65.11 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوتا رہا۔
بدھ کے روز دونوں بینچ مارکس میں 4 فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا اور قیمتیں 30 جنوری کے بعد بلند ترین سطح پر بند ہوئی تھیں، کیونکہ تاجر ممکنہ سپلائی رکاوٹوں کے خدشات کو قیمتوں میں شامل کر رہے تھے۔
نیسان سیکیورٹیز انویسٹمنٹ کے چیف اسٹریٹجسٹ ہیرویوکی کیکوکاوا کے مطابق واشنگٹن اور تہران کے درمیان کشیدگی برقرار ہے تاہم غالب تاثر یہ ہے کہ مکمل جنگ کا امکان کم ہے، اسی لیے سرمایہ کار انتظار کی پالیسی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ خام تیل کی قیمتوں میں تیز اضافے کے خواہاں نہیں اور اگر کوئی عسکری کارروائی ہوئی بھی تو وہ محدود نوعیت کی ہو سکتی ہے۔
وائٹ ہاؤس نے بتایا کہ جنیوا میں ایران سے مذاکرات میں کچھ پیش رفت ہوئی ہے، تاہم چند امور پر فاصلہ برقرار ہے اور توقع ہے کہ ایران آئندہ ہفتوں میں مزید تفصیلات پیش کرے گا۔ دوسری جانب ایران نے اپنے جنوبی علاقوں میں میزائل لانچ کے منصوبے کے حوالے سے نوٹس جاری کیا ہے جبکہ امریکا نے خطے میں جنگی جہاز تعینات کر دیے ہیں۔
اسی دوران امریکی پٹرولیم انسٹیٹیوٹ کے مطابق گزشتہ ہفتے امریکا میں خام تیل، پٹرول اور ڈسٹلیٹ ذخائر میں کمی آئی، جبکہ سرکاری اعداد و شمار جمعرات کو جاری کیے جائیں گے۔