دنیا

بنگلہ دیش کی بی این پی نے تاریخی انتخابات میں دو تہائی اکثریت حاصل کرلی

  • الیکشن میں بی این پی اور اس کے اتحادیوں نے299 میں سے 212 نشستیں حاصل کیں
شائع اپ ڈیٹ

بنگلہ دیش نیشنل پارٹی (بی این پی) نے جمعہ کو عام انتخابات میں واضح دو تہائی اکثریت حاصل کر لی، جس کے نتیجے میں سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کے عہدے سے ہٹنے کے بعد مہینوں کے انتشار کے بعد ملک میں استحکام آنے کی توقع ہے۔

مقامی ٹی وی چینلز نے بتایا کہ گزشتہ برسوں میں بنگلہ دیش کے پہلے حقیقی مسابقتی انتخابات کے طور پر دیکھے جانے والے اس الیکشن میں بی این پی اور اس کے اتحادیوں نے 299 میں سے 212 نشستیں حاصل کیں۔

اپوزیشن جماعت جمعیت اسلامی اور اس کے اتحادیوں نے قومی اسمبلی میں 70 نشستیں جیتی ہیں۔

بی این پی، جو 20 سال بعد دوبارہ اقتدار میں آ رہی ہے، نے اکثریت حاصل کرنے کے فوراً بعد عوام کا شکریہ ادا کیا اور جمعہ کو ملک و عوام کے لیے خصوصی دعاؤں کی اپیل کی ہے۔ پارٹی نے اعلان کیا کہ زیادہ ووٹوں کے فرق سے جیت کے باوجود کسی قسم کی جشن یا ریلی منعقد نہیں کی جائے گی اور ملک بھر میں دعا کا اہتمام کیا جائے۔

واضح نتیجہ 1.75 کروڑ آبادی والے مسلم اکثریتی ملک میں استحکام کے لیے کلیدی سمجھا جا رہا تھا، جہاں مہینوں تک حسینہ واجد مخالف ہنگاموں نے روزمرہ زندگی اور برآمدی صنعتیں، خاص طور پر گارمنٹس، متاثر کیں۔

بی این پی کے رہنما طارق رحمان کے وزیراعظم بننے کی توقع ہے۔ پارٹی کے بانی سابق صدر ضیاءالرحمان کے بیٹے طارق رحمان نے دسمبر میں 18 سال بعد بیرون ملک سے دارالحکومت ڈھاکہ واپس آئے۔

نوبل امن انعام یافتہ محمد یونس، 85 سالہ، نے عبوری سربراہ کے طور پر خدمات انجام دیں جب حسینہ واجد اگست 2024 میں بھارت پناہ گئیں۔

انتخابات میں پیپر بیلٹ کی دستی گنتی جمعہ کو کم از کم دوپہر تک جاری رہے گی۔

بی این پی کی 200 سے زیادہ نشستوں کے ساتھ جیت 2001 میں 193 نشستوں کی فتح سے بڑی ہے، اگرچہ حسینہ واجد کی عوامی لیگ، جو پچھلے 15 سال حکومت کر چکی تھی اور اس بار انتخاب میں حصہ نہیں لے سکی، نے 2008 میں 230 نشستیں حاصل کی تھیں۔

رات کے وقت بی این پی کے ہیڈکوارٹر میں حامیوں نے جشن منایا اور نعرے لگائے۔ جماعت اسلامی کے سربراہ نے شکست تسلیم کرلی اور کہا کہ پارٹی صرف مخالفت کے لیے مخالفت نہیں کرے گی بلکہ مثبت سیاست کرے گی۔

انتخابی میں شرکت گزشتہ انتخابات کے 42 فیصد کے مقابلے میں بڑھ کر 60 فیصد سے زائد متوقع تھی۔ اس بار ریکارڈ کم از کم 50 جماعتوں کے 2,000 سے زائد امیدواروں نے حصہ لیا۔ ایک حلقے میں امیدوار کی موت کے باعث ووٹنگ ملتوی ہوئی۔

انتخابی اصلاحات پر ریفرنڈم میں 20 لاکھ سے زائد ووٹرز نے ہاں اور 8.5 لاکھ سے زائد نے نہیں کہا، جن میں وزیر اعظم کے لیے دو مدتی حدود، عدلیہ کی مضبوط آزادی، خواتین کی نمائندگی، عبوری حکومتیں اور پارلیمنٹ کے دوسرے ایوان کا قیام شامل ہے۔