دنیا

انڈونیشیا کے صدر 19 فروری کو بورڈ آف پیس میٹنگ میں شرکت کریں گے

  • انڈونیشیا نے رواں ہفتے کہا ہے کہ وہ اسرائیل اور حماس کی جنگ کے خاتمے کے لیے امریکی حمایت یافتہ منصوبے کے تحت غزہ میں اپنی فوج بھیج سکتا ہے
شائع اپ ڈیٹ

انڈونیشیا کے صدر پرابوو سوبیانتو رواں ماہ واشنگٹن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ”بورڈ آف پیس“ کے افتتاحی اجلاس میں شرکت کریں گے۔ یہ بات جکارتہ کی وزارت خارجہ نے بدھ کے روز بتائی ہے۔

یہ بورڈ، جس کے چیئرمین ٹرمپ ہیں، ابتدا میں دو سالہ جنگ کے بعد غزہ پٹی کی تعمیرِ نو کی نگرانی کے لیے تشکیل دیا گیا تھا، تاہم اس کا دائرہ کار بظاہر فلسطینی علاقے سے آگے تک وسیع دکھائی دیتا ہے۔

انڈونیشیا، جو اس وقت واشنگٹن کے ساتھ تجارتی معاہدے پر مذاکرات کر رہا ہے، نے رواں ہفتے کہا ہے کہ وہ اسرائیل اور حماس کی جنگ کے خاتمے کے لیے امریکی حمایت یافتہ منصوبے کے تحت غزہ میں اپنی فوج بھیجنے پر غور کر سکتا ہے۔

پرابوو نے گزشتہ ماہ سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں ورلڈ اکنامک فورم کے موقع پر ’’بورڈ آف پیس‘‘ کی افتتاحی تقریب میں دیگر سربراہانِ مملکت اور اعلیٰ حکام کے ہمراہ شرکت کی تھی۔ اب تک تقریباً 19 ممالک اس میں شامل ہو چکے ہیں۔

’’بورڈ آف پیس‘‘ کا پہلا باضابطہ اجلاس 19 فروری کو واشنگٹن میں منعقد ہونے والا ہے۔

وزارت خارجہ کے ترجمان واحد نبیل احمد مولاچیلا نے اے ایف پی کو بتایا، ’’حکومت نے بورڈ آف پیس کے افتتاحی اجلاس میں شرکت کی دعوت قبول کر لی ہے اور صدر پرابوو سوبیانتو اس میں شرکت کا ارادہ رکھتے ہیں۔‘‘

ترجمان کے مطابق انڈونیشیا ’’بورڈ آف پیس‘‘ کو اسرائیل۔فلسطین تنازع کے دو ریاستی حل کے تحت ’’منصفانہ اور پائیدار امن‘‘ کے حصول کے لیے استعمال کرے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ انڈونیشیا شہریوں کے تحفظ کی وکالت کرے گا اور غزہ کی بحالی و تعمیرِ نو کی حوصلہ افزائی کرے گا۔

’’بورڈ آف پیس‘‘ کی مستقل رکنیت کے لیے ایک ارب ڈالر ادا کرنا لازمی ہے، جس پر تنقید کی جا رہی ہے کہ یہ بورڈ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ’’ادائیگی کے بدلے شمولیت‘‘ والا متبادل بن سکتا ہے۔

انڈونیشیا نے تاحال اس بات کی تصدیق نہیں کی کہ آیا وہ مستقل رکنیت کی فیس ادا کرے گا یا نہیں۔

گزشتہ ہفتے ملک کے کابینہ سیکریٹری نے کہا تھا کہ انڈونیشیا کی رکنیت غیر مستقل نوعیت کی ہے اور وہ کسی بھی وقت دستبردار ہو سکتا ہے۔

انڈونیشیا فلسطینی آزادی کا مضبوط حامی ہے اور مسلسل دو ریاستی حل کا مطالبہ کرتا رہا ہے۔

فوج نے اس ہفتے کہا کہ اگر مجوزہ بین الاقوامی استحکام فورس کی تعیناتی کی تصدیق ہو جاتی ہے تو وہ غزہ میں 8,000 تک فوجی بھیجنے کے لیے تیار ہے۔

وزارت دفاع کے ترجمان ریکو ریکارڈو سریعت نے منگل کو کہا کہ فوجیوں کی تعداد یا تعیناتی کی تاریخ کے حوالے سے ’’ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا‘‘۔

انہوں نے کہا کہ انڈونیشی فوجی غزہ میں تعمیرِ نو کی معاونت اور صحت کی خدمات پر توجہ دیں گے۔

ریکو نے کہا، ’’اصولی طور پر انڈونیشیا امن اور انسانی ہمدردی کی کوششوں میں حصہ ڈالنے کے لیے تیار ہے۔‘‘