بنگلہ دیش میں بڑھتے چین اثرورسوخ پر امریکہ کو تشویش، دفاعی متبادل فراہم کرنے کی تیاری
- چین نے حال ہی میں بنگلہ دیش کے ساتھ ایک دفاعی معاہدہ کیا ہے جس کے تحت بھارت کی سرحد کے قریب ڈرون فیکٹری قائم کی جائے گی
بنگلہ دیش میں امریکی سفیر برینٹ ٹی کرسٹینسن نے رائٹرز کو بتایا کہ امریکہ جنوبی ایشیا میں چین کے بڑھتے ہوئے اثرورسوخ پر تشویش رکھتا ہے اور بنگلہ دیش کی اگلی حکومت کو امریکی اور اتحادی دفاعی نظام فراہم کرنے کی تیاری کر رہا ہے تاکہ چینی ہارڈویئر کے متبادل فراہم کیے جا سکیں۔
بنگلہ دیش میں جمعرات کو عام انتخابات ہورہے ہیں، جس کے بعد اگست 2024 میں جنریشن زی کی قیادت میں ہونے والی تحریک نے بھارت سے قریبی سمجھی جانی والی وزیراعظم شیخ حسینہ کا تختہ الٹ دیا تھا۔ شیخ حسینہ نے تب سے نئی دہلی میں پناہ لی ہوئی ہے، جس سے چین بنگلہ دیش میں اپنا اثر بڑھا رہا ہے جبکہ بھارت کی موجودگی کم ہو گئی ہے۔
چین نے حال ہی میں بنگلہ دیش کے ساتھ ایک دفاعی معاہدہ کیا ہے جس کے تحت بھارت کی سرحد کے قریب ڈرون فیکٹری قائم کی جائے گی، جس سے غیر ملکی سفارت کاروں میں تشویش پیدا ہوئی ہے۔ بنگلہ دیش پاکستان سے بھی جے ایف-17 تھنڈر لڑاکا طیارے خریدنے کی بات چیت کر رہا ہے، جو چین کے ساتھ مشترکہ طور پر تیار کیا گیا ہے۔
امریکی سفیر نے کہا کہ امریکہ بنگلہ دیش کی فوجی صلاحیت کو بڑھانے کے لیے مختلف آپشنز پیش کرتا ہے، جن میں امریکی اور اتحادی ممالک کے نظام شامل ہیں تاکہ چینی نظام کے متبادل فراہم کیے جا سکیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ تجارتی تعلقات کی مضبوطی امریکہ کی ترجیحات میں شامل ہے اور نئی حکومت کے ساتھ اقتصادی اور سکیورٹی تعلقات کو فروغ دینے کے لیے کام کرے گا۔
امریکہ نے 12 لاکھ روہنگیا مہاجرین کی مدد میں بھی سب سے بڑا کردار ادا کیا ہے اور بین الاقوامی شراکت داروں سے کہا ہے کہ وہ اس بوجھ میں زیادہ حصہ ڈالیں تاکہ امدادی کارروائیاں مؤثر رہیں۔