کاروبار اور معیشت

بھارت، ویتنام سے بڑھتے مقابلے کے پیشِ نظر پاکستان کی ترکیہ کو مسابقتی نرخوں پر چاول کی پیشکش

  • وفاقی وزیرِ تجارت جام کمال خان اور ترکیہ کے سفیر ڈاکٹر عرفان نذیر اوغلو کے درمیان ملاقات
شائع اپ ڈیٹ

پاکستان نے حکومت کے تعاون یافتہ سپورٹ میکانزم کے ذریعے عالمی قیمتوں سے ہم آہنگ رہنے کی پیشکش کی ہے تاکہ ترکیہ کو بین الاقوامی سطح پر مسابقتی نرخوں پر باسمتی اور نان باسمتی، دونوں اقسام کے چاول فراہم کیے جا سکیں۔

یہ پیشرفت وفاقی وزیرِ تجارت جام کمال خان اور پاکستان میں ترکیہ کے سفیر ڈاکٹر عرفان نذیر اوغلو کے درمیان وزارتِ خارجہ میں ہونے والی ایک اعلیٰ سطح ملاقات کے دوران سامنے آئی۔ ملاقات کا مقصد دوطرفہ تجارتی تعاون کا جائزہ لینا اور اسے فروغ دینا تھا جس میں خاص طور پر ترکیہ کو پاکستان کے چاول کی برآمدات بڑھانے پر توجہ مرکوز کی گئی۔

بدھ کو جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق یہ ملاقات وزیرِاعظم شہباز شریف کی ہدایت پر منعقد ہوئی جنہوں نے بڑھتے ہوئے عالمی مقابلے کے پیشِ نظر زرعی برآمدات، بالخصوص چاول کی برآمد کو مضبوط بنانے کو ترجیح دی ہے۔

مذاکرات کے دوران وفاقی وزیر نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ اس سیزن میں پاکستان میں چاول کی بہترین فصل ہوئی جس سے معیار اور برآمدات کے لیے وافر مقدار (سرپلس) دونوں کی دستیابی یقینی ہوگئی ہے تاہم انہوں نے نوٹ کیا کہ حریف برآمد کنندگان خاص طور پر بھارت اور ویتنام کی جانب سے قیمتوں میں جارحانہ کمی نے عالمی منڈیوں میں چیلنجز پیدا کردیے ہیں جس کے نتیجے میں برآمدات کا حجم برقرار رکھنے کے باوجود قیمتوں پر گراوٹ کا دباؤ بڑھ رہا ہے۔

جام کمال نے ترک وفد کو آگاہ کیا کہ حکومت نے چاول کے برآمد کنندگان اور صنعت کے دیگر اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ قریبی مشاورت کے بعد قیمتوں میں معاونت کا ایک ایسا طریقہ کار (سپورٹ میکانزم) وضع کیا جو بین الاقوامی منڈیوں میں پاکستان کے مسابقتی معیار کو یقینی بنائے گا۔

انہوں نے کہا کہ اس طریقہ کار کے تحت پاکستان عالمی سطح پر رائج قیمتوں کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہے تاکہ خریداروں کو پاکستان سے چاول منگوانے پر قیمت کے لحاظ سے کسی نقصان یا رکاوٹ کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

وفاقی وزیر نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان بین الاقوامی سطح پر مسابقتی نرخوں پر ترکیہ کو باسمتی اور نان باسمتی، دونوں اقسام کے چاول فراہم کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔

انہوں نے ترکیہ پر زور دیا کہ وہ ایک خصوصی کیس کے طور پر پاکستان سے چاول کی درآمدی مقدار میں اضافے پر غور کرے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کا بنیادی مقصد قیمتوں کو حد سے زیادہ بڑھانے کے بجائے برآمدی حجم (مقدار) میں اضافہ کرنا ہے، تاکہ کسانوں کی آمدنی کا تحفظ اور زرعی ویلیو چین کو برقرار رکھا جا سکے۔

اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے دونوں فریقین نے نجی شعبے کے موجودہ میکانزم کے ساتھ ساتھ حکومت سے حکومت (جی ٹو جی) کے تجارتی ذرائع کو فعال کرنے پر تبادلہ خیال کیا۔ اس مجوزہ فریم ورک کے تحت، پاکستان کے سرکاری تجارتی ادارے ترکیہ کے متعلقہ سرکاری اور نجی شعبے کے اداروں بشمول غلہ کی خریداری کرنے والے سرکاری اداروں کے ساتھ ہم آہنگی پیدا کریں گے، تاکہ جہاں قیمتوں میں مسابقت یقینی ہو وہاں بڑے پیمانے پر خریداری کو ممکن بنایا جا سکے۔

وفاقی وزیر نے مارکیٹ تک رسائی کے کلیدی مسائل بھی اٹھائے، جن میں ٹیرف ریٹ کوٹا ، امپورٹ لائسنسنگ کے طریقہ کار اور باسمتی چاول پر صفر یا کم ٹیرف کے امکانات شامل تھے۔

انہوں نے پاک-ترکیہ ترجیحی تجارتی معاہدے کے تحت 18,000 میٹرک ٹن کے موجودہ ٹیرف ریٹ کوٹا میں توسیع اور اس کے بہتر استعمال پر زور دیا اور اس بات کی نشاندہی کی کہ طریقہ کار کی پابندیوں کے باعث گزشتہ ادوار میں یہ کوٹا مکمل طور پر استعمال نہیں ہو سکا تھا۔

ترک سفیر نے پاکستان کی تجاویز کا خیرمقدم کیا اور پاکستان کے ساتھ اقتصادی تعلقات کو مضبوط بنانے کے ترکیہ کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے اس بات کو نوٹ کیا کہ مضبوط سیاسی تعلقات کے باوجود دوطرفہ تجارت کا حجم صلاحیت سے کم ہے اور پاکستان، ترکیہ اعلیٰ سطح اسٹریٹجک کوآپریشن کونسل کے اجلاس کے دوران مقرر کردہ 5 ارب ڈالر کے مشترکہ تجارتی ہدف کو بھی یاد دلایا۔

“دونوں فریقین نے کاروباری برادریوں کے درمیان روابط بڑھانے کی ضرورت پر اتفاق کیا، جس میں تجارتی وفود کے تبادلے، نمائشیں اور بی ٹو بی ملاقاتیں شامل ہیں تاکہ تجارتی مواقع کے بارے میں آگاہی کو بہتر بنایا جا سکے۔ یہ بھی طے پایا کہ آنے والے ہفتوں میں تکنیکی وفود ملاقات کریں گے تاکہ چاول کی تجارت، ترجیحی تجارتی معاہدے میں توسیع، اور زراعت، فوڈ پروسیسنگ اور چاول کی ویلیو ایڈڈ مصنوعات (جیسے کہ سیلا چاول) میں وسیع تر تعاون پر بات چیت کو آگے بڑھایا جا سکے۔