بھارت اور یورپ کو امید ہے کہ جب یورپی یونین کے سربراہان اگلے ہفتے نئی دہلی میں وزیرِاعظم نریندر مودی سے ملاقات کریں گے تو وہ تاریخی معاہدے (مدر آف آل ڈیل) کو حتمی شکل دے دیں گے۔ یہ دونوں اقتصادی طاقیں اب ایک دوسرے کے قریب آنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
چین اور امریکہ کی جانب سے درپیش چیلنجز کے پیشِ نظر بھارت اور یورپی یونین ایک وسیع تر آزاد تجارتی معاہدے کے لیے مذاکرات کر رہے ہیں اور یہ مذاکرات، جن کا آغاز تقریباً دو دہائیاں قبل ہوا تھا اب اپنی تکمیل کے قریب پہنچ چکے ہیں۔
یورپی کمیشن کی صدر ارسلا وان ڈیر لیین نے اس ہفتے کہا کہ ہم ایک تاریخی تجارتی معاہدے کی دہلیز پر کھڑے ہیں۔
وان ڈیر لیین اور یورپی کونسل کے صدر انتونیو کوسٹا پیر کو یومِ جمہوریہ کی تقریبات میں شرکت کریں گے جس کے بعد منگل کو ’بھارت-یورپی یونین سربراہی اجلاس‘ منعقد ہوگا، جہاں انہیں امید ہے کہ اس معاہدے پر باقاعدہ اتفاق ہو جائے گا۔
معاہدے کو یقینی بنانا جسے بھارت کے وزیرِ تجارت پیوش گوئل نےمدر آف آل ڈیلز قرار دیا ہے، برسلز (یورپی یونین) اور نئی دہلی دونوں کے لیے ایک بڑی کامیابی ہوگی۔
یہ دونوں فریقین امریکی محصولات اور چینی برآمدی پابندیوں کے تناظر میں نئی منڈیاں تلاش کرنے کے لیے کوشاں ہیں، تاہم حکام اس بات پر زور دینے کے لیے بے تاب ہیں کہ اس معاہدے کی اہمیت محض تجارت تک محدود نہیں ہے۔