کاروبار اور معیشت

اسٹاک ایکسچینج میں ’T+1‘ سیٹلمنٹ کا آغاز: سودوں کی منتقلی اب مزید تیز

  • اقدام آپریشنل کارکردگی، رسک مینجمنٹ اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بڑھانے کی جانب ایک اہم قدم ہے، شرکاء
شائع اپ ڈیٹ

پاکستان کی کیپٹل مارکیٹ ایک تیز رفتار اور زیادہ مؤثر دور میں داخل ہونے کے لیے تیار ہے کیونکہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج 9 فروری 2026 سے ’T+2‘ کے بجائے ’T+1‘ سیٹلمنٹ سائیکل پر منتقل ہو رہی ہے۔ یہ اقدام بین الاقوامی بہترین طریقوں کے مطابق ایک بڑی اصلاحات کی علامت ہے۔

سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) کی قیادت میں اٹھائے گئے اس اقدام سے سیکیورٹیز کے لین دین کو مکمل کرنے میں لگنے والا وقت کم ہو جائے گا، جس سے سودوں کی منتقلی دو کے بجائے ایک کاروباری دن کے اندر ممکن ہوسکے گی۔

مارکیٹ کے شرکاء کا کہنا ہے کہ یہ اقدام آپریشنل کارکردگی، رسک مینجمنٹ (خطرہ کم کرنے کے عمل) اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بڑھانے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔

نئے سیٹلمنٹ فریم ورک کے تحت، ٹریڈنگ کے دن خریدے گئے شیئرز اگلے ہی کاروباری دن سرمایہ کاروں کے اکاؤنٹس میں منتقل کر دیے جائیں گے، جبکہ فروخت کنندگان کو سودے کی تکمیل کے 24 گھنٹوں کے اندر رقم موصول ہو جائے گی۔ اس سے قبل، سیٹلمنٹ کے عمل میں دو کاروباری دن لگتے تھے، جس کی وجہ سے اکثر سرمایہ پھنس کر رہ جاتا تھا اور ٹریڈنگ میں لچک محدود ہو جاتی تھی۔

صنعتی ماہرین کا خیال ہے کہ یہ منتقلی سیٹلمنٹ (تصفیے) کے دورانیے کو کم کر کے اور ڈیفالٹ کے امکانات کو کم سے کم کر کے کاؤنٹر پارٹی رسک (فریق ثانی کے خطرے) میں خاطر خواہ کمی لائے گی۔ توقع ہے کہ تیز رفتار سیٹلمنٹ سے مارکیٹ کی لیکویڈٹی (نقد رقم کی دستیابی) میں بھی بہتری آئے گی جس سے سرمایہ کار اپنے سرمائے کو جلد دوبارہ استعمال کرنے اور اپنے پورٹ فولیو کو زیادہ چستی کے ساتھ سنبھالنے کے قابل ہو جائیں گے۔

توقع کی جا رہی ہے کہ T+1 کی طرف منتقلی پاکستان اسٹاک ایکسچینج کی مجموعی کشش میں اضافہ کرے گی، خاص طور پر غیر ملکی ادارہ جاتی سرمایہ کاروں کے لیے جو تیزی سے ایسی مارکیٹوں کو ترجیح دے رہے ہیں جہاں سیٹلمنٹ کا دورانیہ کم ہو۔ اس ماڈل کو اپنا کر پاکستان امریکہ اور بھارت جیسی صفِ اول کی عالمی مارکیٹوں میں شامل ہو گیا ہے، جو پہلے ہی ’T+1‘ سیٹلمنٹ نافذ کر چکی ہیں۔

نئے نظام کا کامیاب نفاذ مارکیٹ کے اہم اداروں بشمول نیشنل کلیئرنگ کمپنی آف پاکستان لمیٹڈ (این سی سی پی ایل) اور سینٹرل ڈپازٹری کمپنی (سی ڈی سی) کی مربوط کوششوں کا نتیجہ ہے۔ اس عمل میں صنعت کے دیگر شراکت داروں جیسے کہ میوچل فنڈز ایسوسی ایشن آف پاکستان ، پاکستان اسٹاک بروکرز ایسوسی ایشن اور پاکستان بینکس ایسوسی ایشن کا تعاون بھی شامل رہا ہے۔

ریگولیٹرز اور مارکیٹ شرکاء اس اصلاحات کو پاکستان کی کیپیٹل مارکیٹ کی جدید کاری میں ایک اہم سنگ میل کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026