پاکستان

پاکستان اور یو اے ای میں پری امیگریشن سسٹم شروع کرنے کا فیصلہ

پاکستان اور متحدہ عرب امارات کا پری امیگریشن کلیئرنس شروع کرنے پر اتفاق
شائع January 13, 2026 اپ ڈیٹ January 13, 2026 12:54pm

پاکستان اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) نے پری امیگریشن کلیئرنس سسٹم متعارف کرانے پر اتفاق کیا ہے جس کے تحت پاکستانی مسافر روانگی سے قبل ہی امیگریشن کی کارروائیاں مکمل کرسکیں گے۔ اس اقدام سے مسافر یو اے ای کے ایئر پورٹس پر پہنچنے کے بعد لمبی قطاروں سے بچ سکیں گے۔

رپورٹ کے مطابق یہ پیشرفت منگل کو متحدہ عرب امارات کے ڈائریکٹر جنرل کسٹمز اینڈ پورٹ سیکیورٹی احمد بن لاحج الفلاسی اور وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے درمیان ہونے والی ملاقات میں سامنے آئی۔

ملاقات کے دوران پاک یو اے ای تعلقات، باہمی تعاون اور مسافروں کے لیے امیگریشن کے عمل کو سادہ بنانے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

دونوں فریقین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان پری امیگریشن کلیئرنس کے حوالے سے ایک باقاعدہ معاہدے پر دستخط کیے جائیں گے۔ اس نظام کا آغاز ابتدائی طور پر پائلٹ پراجیکٹ کے طور پر کیا جائے گا جس کے لیے کراچی کو پہلے مقام کے طور پر منتخب کیا گیا ہے۔

اس موقع پر محسن نقوی نے کہا کہ پری امیگریشن کلیئرنس سسٹم کے تحت، امیگریشن اور اس سے متعلقہ دیگر تمام کلیئرنس (کارروائیاں) پاکستان میں ہی مکمل کی جائیں گی۔

اعلامیے کے مطابق انہوں نے مزید کہا کہ اس نظام کے نفاذ کے بعد متحدہ عرب امارات پہنچنے والے مسافروں کو طویل امیگریشن طریقہ کار سے نہیں گزرنا پڑے گا اور وہ مقامی مسافروں کی طرح براہ راست ایئرپورٹ سے باہر جا سکیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس اقدام سے سفر آسان ہوگا، وقت کی بچت ہوگی اور مسافروں کے مجموعی تجربے میں بہتری آئے گی۔

متحدہ عرب امارات کے وفد نے اس اقدام کو دونوں ممالک کے عوام کے لیے فائدہ مند قرار دیا اور اس حوالے سے ہر ممکن تعاون فراہم کرنے کے لیے آمادگی کا اظہار کیا۔

ملاقات میں فیصلہ کیا گیا کہ متعلقہ حکام پائلٹ پراجیکٹ کے انتظامی اور تکنیکی فریم ورک (ڈھانچے) کو حتمی شکل دینے کے لیے باہمی رابطہ جاری رکھیں گے اور کامیاب نفاذ کے بعد اس نظام کو بتدریج مزید مقامات تک پھیلا دیا جائے گا۔