کاروبار اور معیشت

حکومت کا 14,590 ایکڑ پر پورٹ قاسم صنعتی کمپلیکس قائم کرنے کا فیصلہ

  • کمپلیکس کی تعیمر سے بندرگاہ کا خطے میں تجارتی اور لاجسٹک مرکز کے طور پر کردار بڑھ جائے گا
شائع اپ ڈیٹ

حکومت نے پیر کے روز پورٹ قاسم میں پورٹ انڈسٹریل کمپلیکس قائم کرنے کے لیے طویل مدتی ماسٹر پلان جاری کر دیا، جس سے توقع ہے کہ پاکستان کی صنعتی بنیاد مضبوط ہوگی، برآمدات میں اضافہ ہوگا اور اس بندرگاہ کا خطے میں تجارتی اور لاجسٹک مرکز کے طور پر کردار بڑھ جائے گا۔

یہ منصوبہ وفاقی وزیر برائے بحری امور محمد جنید انور چوہدری نے ایک اجلاس کی صدارت کے دوران اعلان کیا، جس میں پورٹ انڈسٹریل کمپلیکس کے وژن کی تفصیل پیش کی گئی۔

اجلاس میں وفاقی وزیر نے کہا کہ پورٹ قاسم کی مربوط منصوبہ بندی اور مرحلہ وار ترقی کا مقصد اسے عالمی معیار کے صنعتی اور لاجسٹک مرکز میں تبدیل کرنا ہے، جو پاکستان کے وسیع تر تجارتی، صنعتی اور بلیو اکانومی کے اہداف کے مطابق ہو۔

جنید انور چوہدری نے کہا کہ پورٹ قاسم کا موسمیاتی لحاظ سے مضبوط صنعتی ہب اگلے دو دہائیوں میں اربوں ڈالر کے معاشی اثرات پیدا کر سکتا ہے، پاکستان کی صنعتی بنیاد کو مستحکم کرے گا، برآمدات بڑھائے گا، لاکھوں روزگار کے مواقع پیدا کرے گا اور ملک کو ایک مسابقتی علاقائی تجارتی و صنعتی مرکز کے طور پر نمایاں کرے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس منصوبے کا پائیداری اور موسمیاتی لچک پر زور مستقبل کے ماحولیاتی اور اقتصادی خطرات کو کم کرے گا اور طویل مدتی سرمایہ کاری کے اعتماد کو بڑھائے گا۔

وزیر بحری امور نے بتایا کہ ماسٹر پلان کا کل رقبہ 14,590 ایکڑ سے زائد ہے اور یہ منصوبہ پانچ دہائیوں کے دوران متوازن صنعتی ترقی، مؤثر بندرگاہی کارروائیوں اور پائیدار زمین کے استعمال کو یقینی بنانے کے لیے بنایا گیا ہے۔

جنید انور چوہدری نے کہا کہ صنعتی کمپلیکس کو تین زونز میں تقسیم کیا گیا ہے: نارتھ ویسٹرن زون، ایسٹرن زون اور ساؤتھ ویسٹرن زون۔ نارتھ ویسٹرن زون 3,061 ایکڑ پر محیط ہے اور متنوع صنعتی سرگرمیوں کے لیے مختص کیا گیا ہے، جو بندرگاہی کارروائیوں سے متعلق قدر بڑھانے والی صنعت اور معاون خدمات کی حمایت کرے گا۔

وزیر بحری امور کے مطابق ایسٹرن زون، کمپلیکس کا سب سے بڑا حصہ 7,273 ایکڑ پر محیط، بنیادی صنعتی ریڑھ کی ہڈی کے طور پر تیار کیا جا رہا ہے، جس میں بھاری صنعتیں، برآمدی یونٹس اور لاجسٹک سہولیات شامل ہوں گی۔

ساؤتھ ویسٹرن زون، 2,258 ایکڑ پر محیط، مخصوص صنعتی اور تجارتی استعمال کے لیے مختص کیا گیا ہے جبکہ 1,997 ایکڑ کم بلندی والے علاقے کو مرحلہ وار ترقی اور ماحولیاتی تحفظ کے ذریعے پائیدار استعمال کے لیے منظم کیا جا رہا ہے۔

جنید انور چوہدری نے بتایا کہ پورٹ قاسم میں اس وقت 833 فعال صنعتی یونٹس موجود ہیں اور 40 یونٹس زیر تعمیر ہیں، جو بندرگاہ کی ترقی اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کی نشاندہی کرتے ہیں۔

وزیر بحری امور نے کہا کہ پورٹ قاسم صرف بحری سہولت نہیں بلکہ ایک زندہ صنعتی ماحولیاتی نظام ہے جو مسلسل بڑھ رہا ہے۔ ہمارا وژن یہ ہے کہ پورٹ قاسم کو ایک علاقائی مرکز کے طور پر مستحکم کیا جائے جو بین الاقوامی معیار پر پورا اترے اور پاکستان کی اقتصادی تبدیلی میں مؤثر کردار ادا کرے۔