دنیا

ایران میں نئے احتجاجی مظاہرے، کریک ڈاؤن کے خدشات میں اضافہ

  • انٹرنیٹ سروس معطل کر دی گئی، جبکہ مانیٹرنگ ادارے نیٹ بلاکس نے ہفتے کی صبح بتایا کہ اعداد و شمار کے مطابق ملک بھر میں انٹرنیٹ بلیک آؤٹ 36 گھنٹے بعد بھی برقرار ہے
شائع January 10, 2026 اپ ڈیٹ January 10, 2026 11:00pm

ایران کے بڑے شہروں میں راتوں رات اسلامی جمہوریہ کے خلاف نئے بڑے احتجاجی مظاہرے شروع ہو گئے، جبکہ کارکنوں نے ہفتے کے روز خدشہ ظاہر کیا ہے کہ حکام انٹرنیٹ بلیک آؤٹ کی آڑ میں مظاہروں کے خلاف کریک ڈاؤن تیز کر رہے ہیں۔

گزشتہ دو ہفتوں سے جاری احتجاج 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد سے ایران پر حکمرانی کرنے والی مذہبی قیادت کے لیے بڑے چیلنجز میں سے ایک بن چکا ہے، اگرچہ سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے سخت موقف اختیار کرتے ہوئے اس کا الزام امریکا پر عائد کیا ہے۔

جمعرات کو تحریک کے اب تک کے سب سے بڑے مظاہروں کے بعد، اے ایف پی کی تصدیق شدہ تصاویر اور سوشل میڈیا پر جاری دیگر ویڈیوز کے مطابق، جمعہ کی رات گئے نئے احتجاجی مظاہرے دیکھنے میں آئے۔

یہ سب حکام کی جانب سے نافذ کیے گئے انٹرنیٹ شٹ ڈاؤن کے باوجود ہوا، جبکہ مانیٹرنگ ادارے نیٹ بلاکس نے ہفتے کی صبح بتایا کہ ” اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ ملک بھر میں انٹرنیٹ بلیک آؤٹ 36 گھنٹے بعد بھی برقرار ہے۔“

اس بلیک آؤٹ نے کارکنوں میں اس خدشے کو جنم دیا ہے کہ حکام اب مظاہروں کے خلاف پرتشدد کریک ڈاؤن کر رہے ہیں، جبکہ شواہد کے بیرونی دنیا تک پہنچنے کے امکانات بھی کم ہو گئے ہیں۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا ہے کہ وہ جمعرات سے مظاہرین کے خلاف سکیورٹی فورسز کی جانب سے مہلک طاقت کے غیرقانونی استعمال میں اضافے سے متعلق ”تشویشناک رپورٹس“ کا جائزہ لے رہی ہے، جسے ایک ایسی شدت قرار دیا گیا ہے جس کے نتیجے میں مزید ہلاکتیں اور زخمی ہوئے ہیں۔

ایران کی نوبیل امن انعام یافتہ شرین عبادی نے جمعہ کو خبردار کیا ہے کہ سکیورٹی فورسز ”وسیع پیمانے پر مواصلاتی بلیک آؤٹ کی آڑ میں قتلِ عام“ کی تیاری کر سکتی ہیں، اور کہا کہ انہیں تہران کے ایک ہی اسپتال میں سیکڑوں افراد کے آنکھوں کے زخموں کے علاج کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

انسانی حقوق کی تنظیموں نے ایران میں ماضی کی احتجاجی لہر وں کے دوران سکیورٹی فورسز پر مظاہرین کی آنکھوں کو دانستہ طور پر برڈ شاٹ سے نشانہ بنانے کا الزام عائد کیا ہے۔

ناروے میں قائم ایران ہیومن رائٹس گروپ کا کہنا ہے کہ اب تک کریک ڈاؤن میں کم از کم 51 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، تاہم اس نے خبردار کیا ہے کہ اصل ہلاکتوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔

ایوارڈ یافتہ ایرانی فلم ساز محمد رسولوف اور جعفر پناہی نے کہا ہے کہ ایرانی حکام ”جبر کے انتہائی کھلے ہتھکنڈے“ استعمال کر رہے ہیں، اور اس کی مثال انٹرنیٹ بلیک آؤٹ کو قرار دیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ” تجربے نے ثابت کیا ہے کہ ایسے اقدامات کا مقصد احتجاج کو دبانے کے دوران ہونے والے تشدد کو چھپانا ہوتا ہے۔“

’شہری مراکز پر قبضہ‘

تہران کے سعادت آباد علاقے میں لوگوں نے برتن بجائے اور حکومت مخالف نعرے لگائے، جبکہ گاڑیاں حمایت میں ہارن بجاتی رہیں، جیسا کہ اے ایف پی کی تصدیق شدہ ویڈیو میں دکھایا گیا ہے۔

سوشل میڈیا اور ایران سے باہر قائم فارسی زبان کے ٹی وی چینلز کی جانب سے پھیلائی گئی دیگر تصاویر میں دارالحکومت کے دیگر علاقوں کے علاوہ مشرقی شہر مشہد، شمالی شہر تبریز اور مقدس شہر قم میں بھی اسی نوعیت کے بڑے مظاہرے دکھائے گئے۔

مغربی شہر ہمدان میں ایک شخص کو آگ کے شعلوں اور رقص کرتے لوگوں کے درمیان شیر و خورشید والے شاہی دور کے ایرانی پرچم کو لہراتے ہوئے دکھایا گیا۔

شمالی ایران کے پونک علاقے میں لوگوں کو شاہراہ کے عین وسط میں آگ کے گرد رقص کرتے دیکھا گیا، جبکہ مشہد کے وکیل آباد علاقے میں، جو مقدس ترین مزارات میں سے ایک کا مسکن ہے، لوگ ایک شاہراہ پر مارچ کرتے ہوئے ایرانی قیادت کے خلاف نعرے لگاتے نظر آئے۔ ان ویڈیوز کی فوری طور پر تصدیق ممکن نہ ہو سکی۔

امریکا میں مقیم معزول شاہِ ایران کے بیٹے رضا پہلوی نے جمعہ کو احتجاجی مظاہروں میں ” شاندار“ شرکت کو سراہا اور ایرانیوں سے ہفتہ اور اتوار کو مزید ہدف پر مرکوز احتجاج کرنے کی اپیل کی ہے۔

انہوں نے سوشل میڈیا پر جاری ایک ویڈیو پیغام میں کہا ہے کہ ” ہمارا مقصد اب صرف سڑکوں پر نکلنا نہیں رہا۔ مقصد یہ ہے کہ شہری مراکز پر قبضے اور انہیں برقرار رکھنے کی تیاری کی جائے۔“

’سنگین صورتحال‘

رضا پہلوی، جن کے والد محمد رضا پہلوی کو 1979 کے انقلاب میں اقتدار سے ہٹا دیا گیا تھا اور جو 1980 میں وفات پا گئے، نے مزید کہا کہ وہ ” وطن واپسی کی تیاری“ بھی کر رہے ہیں، ایک ایسے وقت میں جسے انہوں نے ” بہت قریب“ قرار دیا۔

حکام کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز کے متعدد اہلکار ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے جمعہ کو ایک جارحانہ خطاب میں “ شرپسندوں“ پر تنقید کی اور احتجاجات کا الزام امریکا پر عائد کیا۔

ریاستی ٹی وی نے ہفتے کے روز مظاہروں میں مارے گئے سکیورٹی اہلکاروں کی آخری رسومات کی مناظر نشر کیے، جن میں جنوبی شہر شیراز میں ایک بڑا اجتماع بھی شامل تھا۔

ایران کی فوج نے ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ ” امن کو سبوتاژ کرنے کے خواہاں دشمن” کے خلاف ” قومی مفادات کا بھرپور تحفظ اور دفاع“ کرے گی۔

قومی سلامتی کونسل کے سربراہ علی لاریجانی نے جمعہ کی رات نشر ہونے والے بیانات میں کہا ہے کہ ” ہم ایک جنگ کے درمیان ہیں” اور دعویٰ کیا کہ “ یہ واقعات بیرونِ ملک سے ہدایت کیے جا رہے ہیں۔“

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کو ایک بار پھر ایران کے خلاف نئی فوجی کارروائی کے امکان کو رد کرنے سے انکار کیا، اس کے بعد کہ واشنگٹن نے جون میں اسرائیل کی جانب سے اسلامی جمہوریہ کے خلاف 12 روزہ جنگ کی حمایت اور اس میں شمولیت اختیار کی تھی۔

ٹرمپ نے کہا ہے کہ ”ایران بڑی مشکل میں ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ لوگ بعض شہروں میں کنٹرول سنبھال رہے ہیں، جو چند ہفتے پہلے کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا۔“