پاکستان

ایشین ڈویلپمنٹ بینک کا پاکستان پر فن ٹیک کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانے پر زور

  • بینک کی رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ پاکستان اپنے ٹیکس نظام میں اصلاحات کرے تاکہ اسے فِن ٹیک کے لیے زیادہ سازگار بنایا جا سکے
شائع January 6, 2026 اپ ڈیٹ January 6, 2026 08:53am

ایشین ڈویلپمنٹ بینک (اے ڈی بی) نے کہا ہے کہ اگر پاکستان کو خطے میں فِن ٹیک کے میدان میں ایک نمایاں ملک بننا ہے تو اس کی حکمتِ عملی کا مرکز واضح ٹیکس قوانین، کم ٹیکس شرحیں اور آسان تعمیلی نظام ہونا چاہیے۔

بینک نے اپنی تازہ رپورٹ “ان لاکنگ دی پوٹینشل آف فِن ٹیک اِن سینٹرل ایشیا” میں کہا ہے کہ پاکستان فِن ٹیک کے ذریعے مالی شمولیت بڑھانے اور معاشی ترقی کو تیز کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، تاہم اس کے لیے مالی رکاوٹوں، بالخصوص پیچیدہ ٹیکس نظام اور زیادہ تعمیلی لاگت، کو ریگولیٹری اور صلاحیتی چیلنجز کے ساتھ ساتھ دور کرنا ہوگا۔

رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ پاکستان اپنے ٹیکس نظام میں اصلاحات کرے تاکہ اسے فِن ٹیک کے لیے زیادہ سازگار بنایا جا سکے۔ اس کے لیے ٹیکس ذمہ داریوں کی وضاحت، مخصوص ٹیکس رعایتوں کا نفاذ اور طریقہ کار کو سادہ بنانا، بشمول آن لائن فائلنگ کے نظام، ضروری قرار دیا گیا ہے۔ فِن ٹیک ایکو سسٹم میں ٹیکس تعمیل کے کلچر کو فروغ دینے کے لیے تربیت، انکیوبیٹرز اور تعلیمی اداروں کے ذریعے ٹیکس آگاہی کو بھی اہم قرار دیا گیا ہے۔

رپورٹ میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ اس عمل میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر)، اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) اور سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) کے درمیان قریبی رابطہ اور ہم آہنگی نہایت ضروری ہوگی۔

ٹیکس اصلاحات کے علاوہ رپورٹ میں فِن ٹیک اداروں کے لیے ایک مخصوص اور لچکدار ریگولیٹری فریم ورک کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ فِن ٹیک سے متعلق علیحدہ لائسنسنگ کیٹیگریز متعارف کرائی جائیں جو ڈیجیٹل مالیاتی خدمات فراہم کرنے والوں کے مختلف بزنس ماڈلز اور خطرات کی درست عکاسی کریں۔ اداروں کے حجم اور سرگرمی کے مطابق متناسب لائسنس فیس کی سفارش کی گئی ہے تاکہ نئے اسٹارٹ اپس اور چھوٹے اداروں کے لیے داخلے کی رکاوٹیں کم ہوں اور مسابقت و جدت کو فروغ ملے۔

اے ڈی بی کے مطابق ایک اشتراکی ریگولیٹری طریقہ کار بھی ترجیح ہونی چاہیے۔ ریگولیٹرز کے درمیان بہتر رابطہ اور معلومات کے تبادلے سے نہ صرف دہراؤ اور خلا ختم ہوں گے بلکہ ایک مربوط فریم ورک تشکیل پائے گا جو جدت کی حوصلہ افزائی کرے گا اور علاقائی تعاون کی بنیاد بھی مضبوط کرے گا۔

مالی شمولیت کے حوالے سے رپورٹ میں پاکستان پر زور دیا گیا ہے کہ وہ جدید مصنوعات کے لیے لائسنسنگ کے عمل کو سادہ بنائے اور فِن ٹیک اداروں کو ریگولیٹری رہنمائی اور تکنیکی معاونت فراہم کرے۔ گرانٹس، فنڈنگ کے مواقع اور منظم صلاحیت سازی کے پروگراموں کو ایسے ذرائع قرار دیا گیا ہے جو جدت کو تیز، مالی رسائی کو وسعت اور مالیاتی شعبے کی مسابقت کو مضبوط بنا سکتے ہیں۔

اے ڈی بی نے نشاندہی کی ہے کہ پاکستان فِن ٹیک کے اہم اشاریوں پر خطے کے کئی ممالک سے پیچھے ہے اور خبردار کیا ہے کہ اندرونی صلاحیتی کمزوریاں پیش رفت کو محدود کر سکتی ہیں۔ رپورٹ میں انفرادی، ادارہ جاتی اور ماحولیاتی سطح پر سرمایہ کاری کی سفارش کی گئی ہے، جس میں فِن ٹیک سے متعلق کورسز کے لیے تعلیمی شراکت داری، ڈیجیٹل خواندگی میں اضافہ، پالیسی سازوں اور قانون سازوں کے لیے خصوصی تربیت، اور تحقیق و ترقی کے مضبوط روابط شامل ہیں۔ اوپن ڈیٹا گورننس اور ادارہ جاتی مضبوطی کو بھی شفافیت اور پائیدار ترقی کے لیے ناگزیر قرار دیا گیا ہے۔

رپورٹ میں سی اے آر سی ای خطے کے اندر علاقائی تعاون کو مزید گہرا کرنے کی اہمیت پر بھی زور دیا گیا ہے۔ علاقائی سرمایہ کار اجلاس، کانفرنسیں اور کنونشنز علم کے تبادلے، سرحد پار سرمایہ کاری اور مشترکہ اقدامات کو فروغ دے سکتے ہیں۔ خاص طور پر پسماندہ اور غیر خدمات یافتہ علاقوں، اور دور دراز آبادیوں کے لیے ڈیجیٹل مالیاتی خدمات پر توجہ، مالی اور ڈیجیٹل شمولیت کو آگے بڑھانے میں مدد دے گی۔

اے ڈی بی کا کہنا ہے کہ اگرچہ پاکستان نے کچھ پیش رفت کی ہے، تاہم فِن ٹیک کے فرق کو کم کرنے اور اس شعبے کی انقلابی صلاحیت سے مکمل فائدہ اٹھانے کے لیے تکنیکی معاونت اور علاقائی شراکت داروں کے ساتھ قریبی تعاون ناگزیر ہوگا۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026