135 ارب کے سودے کے بعد پی آئی اے کے نئے مالکان کی نظریں تکنیکی شراکت دار اور طیاروں میں اضافے پر مرکوز
- تین برس کے اندر طیاروں کے بیڑے کو 38 تک بڑھانے کا منصوبہ ہے ،عارف حبیب
معروف صنعت کار اور عارف حبیب کارپوریشن لمیٹڈ کے چیف ایگزیکٹو عارف حبیب کا کہنا ہے کہ نجکاری کے جاری منصوبے کے تحت حال ہی میں نیلام ہونے والی پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) آپریشنز کو جدید بنانے اور مسابقت بڑھانے کے لیے شراکت داریوں کی تلاش میں ہے۔
اتوار کو آج نیوز کے پروگرام ’روبرو‘ میں گفتگو کرتے ہوئے عارف حبیب نے بتایا کہ وہ ایک تکنیکی شراکت دار لانے پر بھی کام کر رہے ہیں اور اگر کوئی پارٹنر لایا گیا تو وہ ایئرلائن کی سطح پر ہوگا جبکہ حکومت کے پاس موجود اپنے 25 فیصد حصص کو کسی نئے پارٹنر کو منتقل کرنے کا اختیار بھی موجود رہے گا۔
یہ ریمارکس ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب گزشتہ ماہ عارف حبیب کارپوریشن کی سربراہی میں ایک کنسورشیم نے پی آئی اے کے 75 فیصد حصص کے حصول کے لیے 135 ارب روپے کی سب سے بڑی بولی دے کر کامیابی حاصل کی، جو حکومت کی مقرر کردہ 100 ارب روپے کی کم از کم قیمت اور 115 ارب روپے کی بنیادی قیمت سے نمایاں طور پر زیادہ تھی۔
عارف حبیب نے واضح کیا کہ نجکاری کے اس سودے میں 125 ارب روپے پی آئی اے کی بحالی اور ترقی کے لیے مختص کیے گئے ہیں، جبکہ 10 ارب روپے نقد اور 45 ارب روپے کے حصص حکومت کو دیے جائیں گے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ اس وقت انجنوں اور اسپیئر پارٹس کی کمی کی وجہ سے کئی طیارے گراؤنڈ ہیں اور صرف 14 سے 15 طیارے فعال ہیں، تاہم ان کا منصوبہ ہے کہ تین سال کے اندر طیاروں کے بیڑے کو 38 تک بڑھایا جائے۔
ملکی معیشت پر تبصرہ کرتے ہوئے عارف حبیب نے کہا کہ میکرو اکنامک استحکام حاصل کر لیا گیا ہے کیونکہ مہنگائی میں کمی، زرمبادلہ کے ذخائر اور حکومتی ریونیو میں اضافہ ہوا ہے، جبکہ ترسیلاتِ زر بڑھنے سے تجارتی اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کم ہوئے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ یہ مثبت رجحانات ہیں لیکن ہم یہ دعویٰ نہیں کر رہے کہ ہم نے ’میچ‘ جیت لیا ہے، بلکہ صرف سمت بہتر ہوئی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ابھی بہت کام باقی ہے اور بجلی کی بلند قیمتیں، زیادہ شرح سود اور ٹیکس کی بھاری شرح وہ سنگین چیلنجز ہیں جنہیں بامعنی معاشی ترقی کے حصول کے لیے حل کرنا ناگزیر ہے۔