دنیا

روسی تیل کی خریداری پر ٹرمپ کی بھارت کو مزید محصولات بڑھانے کی دھمکی

  • ہم بہت تیزی سے محصولات بڑھا سکتے ہیں، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ
شائع January 5, 2026 اپ ڈیٹ January 5, 2026 11:26am

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایئرفورس ون پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر نئی دہلی نے روسی تیل کی خریداری کم کرنے سے متعلق واشنگٹن کے مطالبے کو پورا نہ کیا تو امریکہ بھارت پر محصولات (ٹیرف) میں اضافہ کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مودی ایک اچھے انسان ہیں۔

ٹرمپ نے اتوار کو کہا کہ انہیں معلوم تھا کہ میں خوش نہیں تھا اور مجھے خوش کرنا ان کے لیے اہم تھا۔

بھارت کی جانب سے روسی تیل کی خریداری سے متعلق ایک سوال کے جواب میں ٹرمپ نے کہا کہ وہ (ہمارے ساتھ) تجارت کرتے ہیں، اور ہم ان پر بہت تیزی سے محصولات (ٹیرف) بڑھا سکتے ہیں۔ بھارت کی وزارتِ تجارت نے اس پر تبصرہ کرنے کی درخواست کا فوری طور پر کوئی جواب نہیں دیا۔

گزشتہ سال امریکا نے روسی تیل کی بھاری خریداری پر سزا کے طور پر بھارتی اشیاء پر درآمدی ٹیرف دوگنا کرکے 50 فیصد کردیا تھا۔

بھاری محصولات (ٹیرف) کے باوجود نومبر میں امریکہ کو ہونے والی بھارتی برآمدات میں نمایاں اضافہ ہوا۔

تجارت کے بہتر اعدادوشمار سے حوصلہ پا کر بھارتی حکام نے امریکی تجارتی مطالبات کے خلاف سخت موقف برقرار رکھا ہے اور زرعی درآمدات جیسے شعبوں میں لچک نہ دکھانے کا اشارہ دیا ہے جب کہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ روس سے بھارت کی تیل کی خریداری میں کمی آئی ہے۔

رائٹرز کے مطابق معاملات سے واقف افراد نے بتایا کہ بھارت تیل صاف کرنے والی کمپنیوں سے روسی اور امریکی تیل کی ہفتہ وار خریداری کی تفصیلات طلب کر رہا ہے اور توقع ہے کہ روسی خام تیل کی درآمدات 1 ملین بیرل یومیہ سے کم ہو جائیں گی کیونکہ نئی دہلی واشنگٹن کے ساتھ تجارتی معاہدہ طے کرنے کی کوشش کررہا ہے۔

مودی نے ٹیرف عائد کرنے کے بعد سے کم از کم 3 بار ٹرمپ سے فون پر بات کی ہے لیکن یہ مذاکرات ابھی تک نتیجہ خیز نہیں ہوئے۔

گزشتہ ماہ نئی دہلی میں بھارت کے سیکرٹری برائے تجارت راجیش اگروال نے امریکا کے ڈپٹی ٹریڈ ریپریزنٹیٹو رِک سوئٹزر سے دوطرفہ تجارتی اور اقتصادی تعلقات پر بات چیت کی۔