دنیا

زیلنسکی یوکرین امن منصوبے پر بات چیت کیلئے فلوریڈا میں ٹرمپ سے ملاقات کریں گے

  • روس نے ہفتے کو یوکرین کے دارالحکومت کیف سمیت دیگر علاقوں پر سینکڑوں میزائل اور ڈرون داغ دیے، جس سے دارالحکومت کے بعض حصوں میں بجلی کی فراہمی معطل ہو گئی
شائع اپ ڈیٹ

یوکرین کے صدر وولوڈیمیر زیلنسکی اور امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ آج فلوریڈا میں ملاقات کریں گے، جہاں یوکرین میں جنگ کے خاتمے کے لیے امن منصوبے کو حتمی شکل دینے پر بات چیت کی جائے گی، تاہم اہم نکات پر اختلافات اور روسی فضائی حملوں کی صورت میں اشتعال انگیزی اس عمل کو مشکل بنا رہی ہے۔

ہفتے کے روز روس نے جنگ زدہ یوکرین کے دارالحکومت کیف اور دیگر علاقوں پر سینکڑوں میزائل اور ڈرون حملے کیے، جس کے نتیجے میں دارالحکومت کے بعض حصوں میں بجلی کی فراہمی متاثر ہوئی۔ صدر زیلنسکی نے ان حملوں کو امریکا کی ثالثی میں جاری امن کوششوں پر روس کا ردعمل قرار دیا۔

زیلنسکی کے مطابق وہ ٹرمپ سے ملاقات میں مشرقی یوکرین کے متنازع ڈونباس خطے کے مستقبل، زاپوریزہیا جوہری بجلی گھر اور دیگر امور پر بات کریں گے۔

ماسکو مسلسل مطالبہ کر رہا ہے کہ یوکرین پورا ڈونباس روس کے حوالے کرے، حتیٰ کہ وہ علاقے بھی جو اب تک کیف کے کنٹرول میں ہیں، جس سے اس بات پر شکوک پیدا ہو گئے ہیں کہ روسی صدر ولادیمیر پوٹن کسی ممکنہ معاہدے کو قبول کریں گے یا نہیں۔

یوکرینی صدر نے کہا کہ وہ امریکا کی اس تجویز میں نرمی کے خواہاں ہیں جس کے تحت یوکرینی افواج کو مکمل طور پر ڈونباس سے انخلا کرنا ہوگا۔ اگر ایسا ممکن نہ ہوا تو 20 نکاتی امن منصوبے کو عوامی ریفرنڈم میں پیش کیا جانا چاہیے۔ تاہم ایک حالیہ رائے شماری کے مطابق یوکرینی ووٹرز اس منصوبے کو مسترد بھی کر سکتے ہیں۔