کویت پاکستان میں سرمایہ کاری بڑھانے کا خواہشمند
- کویت انویسٹمنٹ اتھارٹی نے پاکستان میں نئے سرمایہ کاری کے مواقع تلاش کرنے اور دوطرفہ سرمایہ کاری کو فروغ دینے پر آمادگی کا اظہار کیا
کویت نے پاکستان میں سرمایہ کاری کے دائرہ کار کو وسعت دینے میں گہری دلچسپی ظاہر کی ہے، جہاں کویت انویسٹمنٹ اتھارٹی (کے آئی اے) نے نئے مواقع تلاش کرنے اور ادارہ جاتی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی آمادگی کا عندیہ دیا ہے۔
یہ پیش رفت وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک اور کویت کے وزیرِ خزانہ و قابلِ تجدید توانائی اور کویت انویسٹمنٹ اتھارٹی کے چیئرمین ڈاکٹر صبیح المخیزیم کے درمیان اعلیٰ سطح کی ملاقات کے دوران سامنے آئی، جس میں پاکستان اور کویت کے قریبی اور تاریخی دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کے طریقوں پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔
بدھ کو جاری بیان کے مطابق ملاقات میں دونوں وزرا نے توانائی، سرمایہ کاری اور تجارت سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا، تاکہ دونوں ممالک کے باہمی مفادات کا تحفظ کیا جا سکے۔
ڈاکٹر صبیح المخیزیم نے کہا کہ کویت کی پاکستان میں قابلِ ذکر سرمایہ کاری موجود ہے اور کویت اس سرمایہ کاری کو مزید بڑھانے میں دلچسپی رکھتا ہے۔
انہوں نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ کے آئی اے پاکستان میں نئی سرمایہ کاری کے مواقع تلاش کرنے اور متعلقہ شراکت داروں کے ساتھ مل کر دوطرفہ سرمایہ کاری کے حجم میں اضافہ کرنے کے لیے تیار ہے۔
وفاقی وزیر علی پرویز ملک نے پاکستان کی معیشت پر کویت کے مسلسل اعتماد کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ حکومت توانائی، بنیادی ڈھانچے کے شعبوں سمیت دیگر میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔
علی پرویز ملک نے میزن بینک پاکستان کے چیئرمین ریاض الادریسی سے بھی علیحدہ ملاقات کی۔ وفاقی وزیر نے اسلامی بینک کی مضبوط کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے کامیاب غیر ملکی سرمایہ کاری منصوبے دیگر سرمایہ کاروں کے لیے مثبت مثال ہیں اور پاکستان کے مالیاتی شعبے پر اعتماد کو مزید تقویت دیتے ہیں۔
ایک اور ملاقات میں وفاقی وزیر نے کویت فنڈ فار اکنامک ڈیولپمنٹ کے ڈائریکٹر جنرل ولید شملان احمد سے ملاقات کی، جس میں ترقیاتی فنڈنگ میں اضافے اور پاکستان کی سماجی و اقتصادی ترقی کے منصوبوں پر تعاون کو مضبوط بنانے پر گفتگو کی گئی۔
مزید برآں علی پرویز ملک کویت انویسٹمنٹ اتھارٹی میں ڈپٹی منیجنگ ڈائریکٹر سے بھی ملے، جس میں سرمایہ کاری کے مزید مواقع تلاش کرنے اور پاکستان و کے آئی اے کے درمیان ادارہ جاتی تعاون کو فروغ دینے پر غور کیا گیا۔
وفاقی وزیر نے کویت میں پاکستانی کاروباری برادری کے رہنماؤں سے بھی ملاقات کی اور اس موقع پر کہا کہ بیرونِ ملک مقیم پاکستانی ملک کا قیمتی اثاثہ ہیں۔ انہوں نے پاکستان کی معیشت، سرمایہ کاری کے ماحول اور دوطرفہ تعلقات میں ان کی خدمات اور کردار کو سراہا۔