ٹیرف کے تباہ کن اثرات نمایاں ہو رہے ہیں، چینی وزیراعظم
- نومبر میں چین کا تجارتی سرپلس پہلی مرتبہ 1 کھرب ڈالر سے تجاوز کر گیا
چین کے وزیراعظم لی کی چیانگ نے منگل کے روز کہا کہ ٹیرف کے باہمی طور پر تباہ کن نتائج 2025 میں مزید واضح ہو گئے ہیں۔ وہ بیجنگ میں منعقدہ “ٹین پلس ون ڈائیلاگ” سے خطاب کر رہے تھے، جس میں آئی ایم ایف، ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن اور ورلڈ بینک کے سربراہان بھی شامل تھے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا نام لیے بغیر، چین کے دوسرے اعلیٰ ترین عہدیدار نے کہا کہ عالمی معاشی طرزِ حکمرانی میں اصلاحات کے لیے زیادہ کوششوں کی ضرورت ہے کیونکہ تجارتی رکاوٹیں بڑھ رہی ہیں۔
چین کے تجارتی اعدادوشمار کے مطابق، نومبر میں چین کا تجارتی سرپلس پہلی مرتبہ 1 کھرب ڈالر سے تجاوز کر گیا۔ ماہرینِ معاشیات کا کہنا ہے کہ یہ اضافہ ٹرمپ کی جانب سے عائد کردہ ٹیرف کے باعث ہے، جنہوں نے چینی برآمدات کو دیگر عالمی منڈیوں کی طرف موڑ دیا، جس سے ان ممالک کے پیداواری شعبوں پر دباؤ بڑھا ہے۔
لی کی چیانگ نے کہا کہ سال کے آغاز سے ہی ٹیرف کے خدشات عالمی معیشت پر منڈلا رہے ہیں۔ اس اجلاس میں او ای سی ڈی اور انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کے اعلیٰ حکام بھی شریک تھے۔
وزیراعظم لی کی چیانگ نے یہ بھی کہا کہ مصنوعی ذہانت عالمی تجارت کا مرکزی حصہ بنتی جا رہی ہے۔ انہوں نے چین کے ماڈل ڈیپ سیک سمیت جدید اے آئی ٹیکنالوجیز کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ روایتی صنعتوں کی عالمی تبدیلی کا باعث بن رہی ہیں اور نئے شعبوں، جیسے اسمارٹ روبوٹس اور ویری ایبل ڈیوائسز، میں ترقی کی محرک ثابت ہو رہی ہیں۔