پاکستان کا یورپی یونین سے جی ایس پی پلس اصلاحات میں منصفانہ اقدامات کا مطالبہ
- وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان سے یورپی کمیشن مانیٹرنگ مشن کی ملاقات
پاکستان نے یورپی یونین (ای یو) سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ یقینی بنائے کہ آئندہ جی ایس پی پلس فریم ورک ترقی پر مرکوز اور منصفانہ رہے کیونکہ اسلام آباد نے ایتھنول کی ترجیحات کے انخلا اور اہم جیوگرافیکل انڈیکیشن (GI) کیسز پر غیر جانبدار فیصلوں کی ضرورت پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
یہ مطالبہ جمعہ کو وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان اور دورے پر آئے یورپی کمیشن مانیٹرنگ مشن کے درمیان ہونے والی ملاقات کے دوران کیا گیا۔
مشن کی قیادت سرجیو بلیبریا کر رہے تھے جب کہ یورپی یونین کے سفیر ریمونڈس کاروبلس بھی ملاقات میں شریک تھے۔
جام کمال خان نے وفد کا خیرمقدم کیا اور پاکستان کی سب سے بڑی برآمدی مارکیٹ کے طور پر یورپی یونین کے کردار کو اجاگر کیا اور یہ نوٹ کیا کہ جی ایس پی پلس نے ملک میں تجارت، روزگار، خواتین کو با اختیار بنانے اور پائیدار ترقی میں نمایاں طور پر معاونت کی ہے۔
وفاقی وزیر نے پاکستان کی جانب سے جی ایس پی پلس سے متعلق 27 بین الاقوامی کنونشنز کی مسلسل عمل درآمد کو اجاگر کیا اور یقین ظاہر کیا کہ 5ویں بائی اینیئل ریویو نے بڑے چیلنجز کے باوجود حاصل شدہ پیش رفت کو تسلیم کیا جائے گا۔
وفاقی وزیر نے زور دیا کہ نئے جی ایس پی پلس فریم ورک کو ترقی پسندانہ نقطہ نظر برقرار رکھنا چاہیے اور فائدہ اٹھانے والے ممالک پر غیر ضروری اضافی شرائط عائد نہ کی جائیں۔
انہوں نے حال ہی میں ایتھنول پر جی ایس پی پلس ترجیحات کی واپسی پر بھی تشویش ظاہر کی جو اس اسکیم کے تحت پاکستان کی سب سے بڑی غیر نصابی برآمد تھی اور یورپی یونین کے اس فیصلے نے کسانوں کی آمدنی کو متاثر کیا ہے۔
انہوں نے باسمتی چاول کی جی آئی رجسٹریشن کے منصفانہ عمل کی یقین دہانی کی بھی امید ظاہر کی۔
جام کمال خان نے سندھ اجرک، پنک سالٹ اور آم کو بھی جی آئی تحفظ دینے کی سفارش کی۔
ملاقات کے دوران دونوں فریقوں نے پاکستان اور یورپی یونین کی مستحکم جی ایس پی پلس شراکت داری جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔