روس اور یوکرین کے درمیان جنگ بندی کی بڑھتی امیدیں، خام تیل کی قیمتیں گرگئیں
- برینٹ خام تیل کی فیوچر قیمت میں 21 سینٹ یعنی 0.3 فیصد کمی کے بعد یہ 62.92 ڈالر فی بیرل پر آ گئی،
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں جمعرات کو کمی ریکارڈ کی گئی، جس کی بڑی وجہ یوکرین اور روس کے درمیان ممکنہ جنگ بندی کی امیدوں کو قرار دیا جا رہا ہے۔ سرمایہ کاروں کا خیال ہے کہ اگر دونوں ممالک کے درمیان سیزفائر ہو جاتا ہے تو روس کے تیل پر عائد مغربی پابندیوں میں نرمی آ سکتی ہے، جس سے رسد میں اضافہ ہوگا اور قیمتوں پر مزید دباؤ پڑے گا۔۔
برینٹ خام تیل کی فیوچر قیمت میں 21 سینٹ یعنی 0.3 فیصد کمی کے بعد یہ 62.92 ڈالر فی بیرل پر آ گئی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل 21 سینٹ یا 0.4 فیصد کمی کے ساتھ 58.44 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کرتا رہا۔ بدھ کے روز دونوں کنٹریکٹس تقریباً ایک فیصد اضافے پر بند ہوئے تھے، جب سرمایہ کاروں نے زائد رسد کے خدشات اور ممکنہ امن معاہدے کا جائزہ لیا۔
امریکی ایلچی اسٹیو وٹکوف آئندہ ہفتے ماسکو کا دورہ کریں گے جہاں وہ روسی قیادت سے یوکرین جنگ کے خاتمے سے متعلق ممکنہ منصوبے پر بات چیت کریں گے۔ تاہم روسی سفارتکاروں کا کہنا ہے کہ ماسکو امن منصوبے پر کسی بڑی رعایت کا ارادہ نہیں رکھتا۔ ماہرین کے مطابق جنگ بندی کی صورت میں روسی آئل کمپنیوں پر امریکی پابندیوں سے جڑے خدشات کم ہوں گے، جس سے قیمتوں میں مزید کمی آ سکتی ہے۔
ادھر امریکہ میں خام تیل کے ذخائر میں توقع سے زیادہ اضافہ بھی قیمتوں پر منفی اثر ڈال رہا ہے۔ امریکی توانائی ادارے کے مطابق ذخائر میں 2.8 ملین بیرل اضافہ ہوا جبکہ ماہرین نے معمولی اضافے کی پیش گوئی کی تھی۔ اسی دوران امریکی آئل رگز کی تعداد بھی کم ہو کر 407 رہ گئی ہے جو ستمبر 2021 کے بعد کم ترین سطح ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سپلائی وافر مقدار میں موجود ہے۔
اوپیک پلس کے ذرائع کے مطابق اتوار کو ہونے والے اجلاس میں پیداوار کی سطح برقرار رکھنے کا امکان ہے، اگرچہ بعض ممالک اپریل سے پیداوار میں اضافہ کر رہے ہیں تاکہ مارکیٹ میں اپنا حصہ بڑھایا جا سکے۔
تیل کی قیمتوں کو کچھ سہارا امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے دسمبر میں شرح سود میں کمی کی توقعات سے بھی ملا ہے، کیونکہ کم شرح سود معاشی سرگرمیوں اور تیل کی طلب میں اضافہ کر سکتی ہے۔