ٹائل مینوفیکچرنگ سیکٹر میں 30 ارب روپے کی ٹیکس چوری، سخت اقدامات پر ایف بی آر اور چینی کمپنی میں تنازع
- اہم صنعتی شعبوں میں پروڈکشن لائنز پر اے آئی سے لیس نگرانی کے کیمرے نصب کیے جائیں گے، چیئرمین ایف بی آر
ٹائل مینوفیکچرنگ سیکٹر میں سالانہ 30 ارب روپے سے زائد کے ٹیکس چوری کے انکشاف کے بعد فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے سخت اقدامات کا آغاز کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں سینٹ کی اسٹینڈنگ کمیٹی برائے مالیات کے اجلاس میں ایف بی آر اور ایک چینی کمپنی کے درمیان شدید تنازع سامنے آیا۔
ایف بی آر کے چیئرمین راشد محمود لنگڑیال نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ اہم صنعتی شعبوں میں پروڈکشن لائنز پر اے آئی سے لیس نگرانی کے کیمرے نصب کیے جائیں گے تاکہ بڑے پیمانے پر مالی لیکیج روکی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ اس اقدام سے صرف اس سال چینی سیکٹر سے 76 ارب روپے اور سیمنٹ سے 102 ارب روپے اضافی محصولات حاصل کیے جا سکتے ہیں۔
چینی کمپنی نے کیمروں کی تنصیب کی مخالفت کی اور کہا کہ وہ بغیر نگرانی بھی سیلز ٹیکس ادا کرنے کے لیے تیار ہے، اور یہ دلیل دی کہ سعودی عرب، تھائی لینڈ یا کسی اور ملک میں ایسا نظام موجود نہیں۔چیئرمین ایف بی آر نے سخت موقف اپناتے ہوئے کہا کہ کیمرے نصب کرو یا اپنا کاروبار بند کر دو۔ کمپنی کے نمائندے نے پوچھا، “آپ کو ٹیکس چاہیے یا کیمرے؟ چیئرمین نے جواب دیا کہ مجھے کیمرے چاہیے۔
چیئرمین ایف بی آر نے واضح کیا کہ کیمرے کم کر کے صرف 4 رکھے جائیں گے، جو کنویئر بیلٹس، پیکجنگ زونز اور داخلی و خارجی پوائنٹس پر نصب ہوں گے تاکہ اے آئی کے ذریعے ہر ٹائل کی پیداوار اور ترسیل کا حساب لیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدام کسی کے تجارتی راز یا سرمایہ کاری کو نقصان نہیں پہنچائے گا، اور کیمرے پہلے ہی وفاقی وزرا کی ملکیت والے چینی ملز میں لگائے جا چکے ہیں۔
وزیر مملکت برائے مالیات بلال اظہر نے کیمروں کی تنصیب کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ یہ صنعتی شعبے کے لیے فائدہ مند ہے کیونکہ اس سے ایف بی آر کے اہلکاروں کی فزیکل موجودگی اور ہراسانی ختم ہو جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اے آئی کے ذریعے پیداوار کی درست پیمائش یقینی بنائی جائے گی تاکہ سیلز ٹیکس مکمل طور پر ادا ہو۔
کمیٹی نے اسلامک بینکنگ کے حوالے سے خواتین ملازمین کے لباس کے مسئلے پر بھی غور کیا، اور اس بات کو یقینی بنایا کہ صرف مناسب اور پیشہ ورانہ لباس لازمی ہو۔ کمیٹی نے سوست بارڈر پر کنسائنمنٹس کے بیک لاگ، ایکسپورٹ پروسیسنگ زون کراچی میں فائر ہیزرڈ، اور یونیورسٹی آف پنجاب کے انسٹی ٹیوٹ آف کوالٹی اینڈ ٹیکنالوجی مینجمنٹ کے فیکلٹی کی تنخواہوں کے فرق کے مسائل پر بھی بحث کی۔
کمیٹی نے ایف بی آر پالیسی بورڈ کے نامزد ارکان کی منظوری دی اور صدارتی حکم نامے کے نفاذ کی ہدایت بھی دی تاکہ صنعتی اور تجارتی شعبے میں ٹیکس چوری اور دیگر مسائل کا خاتمہ کیا جا سکے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025