کراچی الیکٹرک کا بورڈ اجلاس کورم پورا نہ ہونے پر منسوخ
- کمپنی کے انتظامی امور سے متعلق حکومتی سطح پر کیے جانے والے جائزے کی کوشش عارضی طور پر رک گئی
کے الیکٹرک کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کا طے شدہ اجلاس بدھ کے روز کورم پورا نہ ہونے کے باعث منعقد نہ ہوسکا، جس کے نتیجے میں کمپنی کے انتظامی امور سے متعلق حکومتی سطح پر کیے جانے والے جائزے کی کوشش عارضی طور پر رک گئی۔
یہ پیشرفت ایسے وقت میں ہوئی جب ایک روز قبل سندھ ہائی کورٹ نے نیپرا کے ملٹی ایئر ٹیرف (ایم وائے ٹی) کے فیصلے پر حکم امتناع جاری کیا تھا، جسے کمپنی کی قیادت کے لیے بڑا ریلیف قرار دیا جا رہا ہے۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج کو جمع کرائی گئی اطلاع کے مطابق، اسلام آباد میں دوپہر 2 بجے منعقد ہونے والا اجلاس جس میں مالی نتائج کے علاوہ دیگر امور پر غور کیا جانا تھا اس وقت منسوخ کردیا گیا جب اجلاس کے لیے درکار ارکان کی تعداد پوری نہ ہوسکی۔
ذرائع کے مطابق، حکومت کی جانب سے نامزد ڈائریکٹرز اجلاس میں موجود تھے تاہم کمپنی کے اکثریتی شیئر ہولڈر کی ای ایس پاور کے نمائندے شریک نہیں ہوئے، جس کی وجہ سے اجلاس کا انعقاد ممکن نہ رہا۔
کاروباری اور پالیسی حلقوں میں اس پیشرفت کو حکومت کے لیے وقتی جھٹکے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، کیونکہ اجلاس میں کمپنی کی اندرونی گورننس سے متعلق امور پر غور کیا جانا تھا۔ کی ای ایس پاور کی غیر موجودگی میں یہ بحث آگے نہیں بڑھ سکی۔
دوسری جانب، نیپرا کے نظرِ ثانی شدہ ایم وائے ٹی پر سندھ ہائی کورٹ کے حکم امتناع نے کے-الیکٹرک کی پوزیشن مزید مضبوط کردی ہے، جس سے ریگولیٹری دباؤ میں کمی آئی ہے اور موجودہ انتظامیہ پر اعتماد بحال ہوا ہے۔
حکومتی ذرائع کے مطابق، بورڈ اجلاس کے تعطل اور عدالتی ریلیف کے نتیجے میں فی الحال کمپنی کی موجودہ قیادت کو تقویت ملی ہے۔ پاکستان کی سب سے بڑی نجی پاور یوٹیلٹی میں وقتی طور پر استحکام ضرور آیا ہے، تاہم اس کے سرکاری و نجی شراکت داروں کے درمیان تعلقات کی حرکیات بدستور متحرک ہیں۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025