بجلی کے شعبے کو مستحکم کرنے کی ضرورت
- مالی سال 2024-25 میں صرف ٹرانسمیشن اور ڈسٹری بیوشن نقصانات ہی 265 ارب روپے تک پہنچ گئے
پاکستان کا پاور سیکٹر مسلسل ناکامی اور بدانتظامی کی ایک مثال بنا ہوا ہے، جو غیر مؤثر کارکردگی اور گورننس کی خرابیوں سے دوچار ہے، اگرچہ جولائی 2025 میں اس شعبے کا گردشی قرضہ 1.66 کھرب روپے تھا، جو پچھلی سطح کے مقابلے میں معمولی کمی ظاہر کرتا ہے، تاہم یہ کمی اسٹرکچر فلاز کو چھپا نہیں سکی: مہنگا اور غیر مؤثر بجلی پیدا کرنے کا نظام، سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی کی بدانتظامی اور سب سے اہم ایک بدانتظامی کا شکار سنٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی اور سب سے اہم ایک گرتا ہوا تقسیم کا نظام جو بجلی کی چوری، لائن لاسز اور بدانتظامی کے ذریعے ریونیو ضائع کر رہا ہے۔
ڈسٹری بیوشن کمپنیاں (ڈسکوز) درحقیقت اس شعبے کی نظامی خرابی کی عکاس ہیں جو کمزور نگرانی، سیاسی مداخلت اور مکمل غیر جوابدہی سے دوچار ہیں، یہی گورننس کا بحران ہے جس نے دوبارہ توجہ حاصل کی ہے، اور حالیہ ایشیائی ترقیاتی بینک کے مشن نے پاکستان کا دورہ کرتے ہوئے اس دیرینہ بگاڑ کو اجاگر کیا ہے جو شعبے کو مالی طور پر کمزور اور عملی طور پر غیر مستحکم رکھتا ہے۔
ایشین ڈیولپمنٹ بینک کے مشن نے اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ بات چیت میں نوٹ کیا کہ ڈسکوز اب بھی زیادہ ٹرانسمیشن اور ڈسٹری بیوشن نقصانات، ناقص وصولی کی شرح اور وسیع پیمانے پر بجلی کی چوری کے بوجھ تلے ہیں۔ مثال کے طور پر، مالی سال 2024-25 میں صرف ٹرانسمیشن اور ڈسٹری بیوشن نقصانات ہی 265 ارب روپے تک پہنچ گئے جو 17.6 فیصد کی شرح سے ہدف شدہ 11.7 فیصد سے کہیں زیادہ تھی۔
یہ اعدادوشمار گورننس کی بڑی خرابی کو ظاہر کرتے ہیں، ایک کمزور ریگولیٹری ماحول، نااہل انتظام اور نظامی شفافیت کی کمی جو ڈسکوز کو صارفین کے مفاد میں خدمات فراہم کرنے یا وسیع تر توانائی کی فراہمی کے نظام کی سالمیت برقرار رکھنے سے روک رہی ہے۔ ان کے نتیجے میں مالی کارکردگی بھی خراب رہی ہے، جس کی وجہ سے وہ تجارتی قرض تک رسائی حاصل نہیں کر پا رہیں، محدود عوامی اور عطیہ دہندہ فنڈز پر انحصار کرنے پر مجبور ہیں اور وہ بنیادی انفرااسٹرکچر اپ گریڈز میں سرمایہ کاری کرنے سے قاصر ہیں جو ٹی اینڈ ڈی نقصانات کم کرنے اور قابلِ اعتماد بجلی کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے ضروری ہیں۔
ڈسکوز کیلئے ایک اور طویل مدتی تاخیر شدہ ترجیح یہ ہے کہ وہ اپنے پرانے آئی ٹی سسٹمز کو جدید بنائیں، جس میں ایڈوانسڈ میٹرنگ انفرااسٹرکچر (اے ایم آئی) اور ایڈوانسڈ پلاننگ اور مانیٹرنگ سسٹمز کا نفاذ شامل ہے، تاکہ سسٹم نقصانات کو کم کیا جا سکے، بل کی وصولی بہتر ہو اور سروس کی قابلِ اعتمادیت میں اضافہ ہو۔ یہ ٹیکنالوجیز، جو حکومت کے اصلاحاتی ایجنڈے کا مرکز ہیں، حقیقی وقت میں نگرانی، بہتر صارفین کے فیصلے اور ڈیٹا پر مبنی گرڈ کنٹرول ممکن بناسکتی ہیں۔
تاہم ان کی کامیابی کا انحصار محتاط منصوبہ بندی، اعلیٰ درجے کی تکنیکی مہارت اور مرحلہ وار نفاذ کی حکمت عملی پر ہے اور چونکہ ڈسکوز کی ادارہ جاتی صلاحیت کمزور اور عملدرآمد کا ریکارڈ ناقص ہے، اس لیے اس طرح کی تبدیلی کو عملی جامہ پہنانے کی ان کی صلاحیت مشکوک معلوم ہوتی ہے۔
مزید برآں ایشین ڈیولپمنٹ بینک (اے ڈی بی) نے شعبہ بجلی کی صلاحیت کے حوالے سے درست خدشات ظاہر کیے ہیں کہ وہ متبادل توانائی کے بڑھتے ہوئے ذرائع، خاص طور پر چھتوں پر نصب سولر سسٹمز کو مؤثر طریقے سے سنبھالنے کے قابل ہے یا نہیں۔ یہ پرانے گرڈ آپریشنز پر دباؤ ڈال رہا ہے، وولٹیج کی غیر مستحکم صورتحال پیدا کر رہا ہے، ریورس پاور فلو (واپسی والی بجلی) پیدا کر رہا ہے، پرانے ٹرانسفارمرز پر دباؤ ڈال رہا ہے اور توانائی کی پیش گوئی اور لوڈ بیلنسنگ کو دن بہ دن مزید مشکل بنا رہا ہے۔
یہ بھی اتنا ہی اہم ہے کہ یہ تسلیم کیا جائے کہ بجلی کے شعبے کی خراب کارکردگی صرف ڈسکوز تک محدود نہیں بلکہ معیشت کے دیگر حصوں پر بھی براہِ راست اثر ڈالتی ہے، خاص طور پر تیل اور گیس کی صنعتوں پر جو توانائی کی فراہمی کی بنیاد ہیں۔ طویل المدتی ناکارآمدیاں، بشمول سی پی پی اے۔ جی اور سرکاری یوٹیلٹیز سے ادائیگیوں میں تاخیر، نے ایندھن فراہم کرنے والوں کو بڑھتے ہوئے واجبات کے بوجھ تلے دبا دیا ہے، جس سے کیش فلو متاثر ہو رہا ہے اور ایندھن کی درآمدات اور پیداوار محدود ہو رہی ہے۔
بجلی کی غیر مستحکم پیداوار اور طلب کی ناقص پیش گوئی سپلائی کی منصوبہ بندی کو مزید بگاڑتی ہے جس سے لاگت میں اضافہ ہوتا ہے۔ یہ مالیاتی اور آپریشنل خرابی پورے توانائی کے سلسلے میں پھیل جاتی ہے، اس کے استحکام اور لیکویڈیٹی (نقد آسانی) کو ختم کر دیتی ہے، اور پاکستان کی صنعتوں پر علاقے میں بجلی کے سب سے زیادہ اخراجات کا بوجھ ڈال دیتی ہے۔
پاکستان کے بجلی کے شعبے میں اصلاحات کے لیے جزوی اقدامات سے کام نہیں چلے گا، بلکہ اس کے لیے جامع ساختی اصلاحات کی ضرورت ہے۔ تکنیکی نقصانات کو کم کرنے کے لیے قومی گرڈ کو جدید بنانا ضروری ہے اور ٹیرف کے فریم ورک کو حقیقی معنوں میں لاگت کا عکاس بنانا چاہیے، یعنی اسے بجلی پیدا کرنے کی اصل قیمت سے ہم آہنگ کیا جائے، جبکہ ٹارگٹڈ سبسڈی کے ذریعے لائف لائن صارفین کو تحفظ فراہم کیا جائے۔
بلنگ کی درستگی بہتر بنانے، وصولیوں میں اضافہ کرنے اور چوری کو روکنے کیلئے ایڈوانسڈ میٹرنگ انفرااسٹرکچرکے نفاذ کو بڑھانا بھی انتہائی ضروری ہے، جس کے ساتھ زیادہ چوری والے علاقوں میں پری پیڈ سسٹمز کا استعمال بھی مؤثر ہوگا۔ تاہم، دیرپا ترقی کے لیے حکمرانی میں اصلاحات ناگزیر ہیں: ناقص کارکردگی والی ڈسکوز کو نجی شعبے کے حوالے کرنا، انہیں سیاسی مداخلت سے محفوظ بنانا اور نقصان دینے والے بجلی پیدا کرنے والے پلانٹس کو مرحلہ وار بند کرنا۔ ان بنیادی تبدیلیوں کے بغیر، شعبہ ناکارآمدی اور مالی بحران میں پھنسے رہنے کا خدشہ رکھتا ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025