نیپرا ٹیرف تنازع، کے الیکٹرک بورڈ کی جانب سے عالمی ثالثی کے انتخاب کا امکان
- معاملہ وزیراعظم شہباز شریف کے سعودی عرب کے حالیہ دورے کے دوران بھی زیر بحث آنے کا امکان ہے
اسلام آباد کے طاقتور حلقوں میں قیاس آرائیاں ہیں کہ نیپرا کی جانب سے بجلی کی فراہمی کے ٹیرف میں حالیہ کمی کے فیصلے کے بعد کے الیکٹرک بورڈ ممکنہ طور پر بین الاقوامی ثالثی کیلئے جانے کی اجازت دے سکتا ہے، کیونکہ اس کمی کے کے الیکٹرک پر مالی اثرات سالانہ 200 ارب روپے تک پہنچنے کا امکان ہے۔
ذرائع نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ کے الیکٹرک کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سید مونس عبداللہ علوی نے اس ضمن میں حکومت کی اعلیٰ قیادت کو پہلے ہی آگاہ کیا ہے، جس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار بھی شامل ہیں، جنہیں کے الیکٹرک میں الجمیح کے مسئلے کے حل کے لیے تعینات کیا گیا تھا۔ یہ معاملہ وزیراعظم شہباز شریف کے سعودی عرب کے حالیہ دورے کے دوران بھی زیر بحث آنے کا امکان ہے، جس میں وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری بھی ان کے ہمراہ ہوں گے۔
15 اکتوبر 2025 کو کے الیکٹرک کے سی ای او نے اپنی خط میں دوبارہ کہا کہ وزارت توانائی کی جانب سے کے الیکٹرک کے ملٹی ایئر ٹیرف (ایم وائے ٹی) مالی سال 2024-2030 کے جائزے میں کی گئی تجاویز اگر نافذ کی گئیں، تو کمپنی کی نقد روانی پر سنگین اثرات مرتب ہوں گے اور کے الیکٹرک کے آپریشنز غیر مستحکم ہو جائیں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ نیپرا نے کے الیکٹرک کے سپلائی ٹیرف میں 7.60 روپے فی یونٹ کمی کی، جس سے 39.97 روپے/کے ڈبلیو ایچ سے 32.37 روپے/کے ڈبلیو ایچ تک گر گیا، جس نے کمپنی کی انتظامیہ میں شدید تشویش پیدا کر دی۔
مونس علوی نے کہا کہ ہر 1 روپیہ فی یونٹ کمی کے الیکٹرک کے نقد بہاؤ پر تقریباً 15 ارب روپے کا اثر ڈالتی ہے، جبکہ مالی سال 2024 میں کے الیکٹرک کا خالص منافع صرف 4 ارب روپے تھا، جس کے باعث ٹیرف میں کمی کمپنی کو نقصانات میں لے جا سکتی ہے۔ انہوں نے انتباہ دیا کہ پاور ڈویژن کی سفارشات کی مکمل عملداری سے کے الیکٹرک کے قرضوں کے معاہدات کی خلاف ورزی ہوگی، جس سے مالیاتی ادارے نقدی کو سیکورٹی کے تحت روک دیں گے، اور کمپنی کی آپریشنل اور مالی استحکام شدید متاثر ہوگا۔
ٹیرف میں کمی سے نہ صرف کے الیکٹرک کی مالی حالت متاثر ہوگی بلکہ اس کے شہر کراچی میں بجلی کی بلا تعطل فراہمی، صنعتی صارفین کی سہولت، اور قومی اقتصادی پیداوار پر بھی اثر پڑے گا۔ کے الیکٹرک کے 2030 تک کے سرمایہ کاری منصوبے، جن میں 2 ارب ڈالر کی بنیادی ڈھانچے کی سرمایہ کاری شامل ہے، خطرے میں پڑ جائیں گے کیونکہ نقصانات کی وجہ سے نئے قرضے حاصل کرنا مشکل ہو جائے گا، جس سے اہم پروجیکٹس میں تاخیر اور سروس میں کمی واقع ہوگی۔
کے الیکٹرک نے مزید کہا کہ ٹیرف میں کمی پاکستان میں ریگولیٹری پیش گوئی پر اعتماد کو متاثر کرے گی، بین الاقوامی بیمہ کاروں اور قرض دہندگان کے ساتھ تعلقات میں دراڑ ڈالے گی، بجلی کے شعبے میں سرمایہ کاری کی لاگت بڑھائے گی اور مستقبل میں نجکاری کے عمل کو بھی متاثر کرے گی۔ مونس علوی نے اعلیٰ سطح کی مداخلت کی درخواست کی اور کسی بڑی آڈٹ فرم یا مقامی و غیر ملکی قرض دہندگان سے آزادانہ جائزہ لینے کی پیشکش کی، تاکہ ٹیرف کمی کے ممکنہ اثرات کا تفصیلی، ڈیٹا پر مبنی جائزہ پیش کیا جا سکے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025