اداریہ

اسٹیٹ بینک کی سالانہ رپورٹ

شائع October 21, 2025 اپ ڈیٹ October 21, 2025 12:10pm

اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کی مالی سال 2025 کی سالانہ رپورٹ میں بڑے معاشی اشاریوں میں نمایاں بہتری کو اجاگر کیا گیا ہے۔

مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو 2025 میں 3 فیصد ریکارڈ کی گئی، جو پچھلے سال (2024) کے 2.4 فیصد کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ یہ اضافہ اس کے باوجود ہوا کہ زرعی شعبے کی ترقی کی شرح 2024 کے 6.4 فیصد کے مقابلے میں ڈرامائی طور پر کم ہو کر 2025 میں 1.5 فیصد رہ گئی۔ صنعتی شعبے کی ترقی میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا، جو 2024 کے 0.9 فیصد کے مقابلے میں 2025 میں 5.3 فیصد تک پہنچ گئی۔ تاہم، یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ یہ مضبوط صنعتی نمو اس حقیقت کے باوجود حاصل ہوئی کہ بڑے پیمانے کی مینوفیکچرنگ (ایل ایس ایم) کے شعبے میں 2024 کے 0.9 فیصد کے مقابلے میں 2025 میں منفی 0.7 فیصد کی گراوٹ ریکارڈ کی گئی۔

3.0 فیصدکی شرح نمو اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور پاکستان بیورو آف شماریات کے ابتدائی تخمینوں سے 4 فیصد کم ہے، تاہم یہ امر تشویش کا باعث ہے کہ نہ تو عالمی بینک نے (جس کا تخمینہ 2.6 فیصد ہے) اور نہ ہی بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (جس کا تخمینہ 2.7 فیصد) نے گزشتہ مالی سال کے لیے پاکستان کی شرحِ نمو کے اپنے تخمینوں میں کوئی اضافہ کیا ہے۔

سال 2025 کے سیلاب جون میں شروع ہوئے (جبکہ مالی سال 30 جون کو ختم ہوتا ہے) اور چونکہ جون کے اختتام تک سیلاب سے ہونے والے نقصانات کا تخمینہ دستیاب نہیں تھا، اس لیے ممکنہ طور پر حکام نے اسے حساب میں شامل نہیں کیا۔ تاہم، یہی عنصر شاید بین الاقوامی ڈونر ایجنسیوں کی جانب سے شرحِ نمو میں اضافہ نہ کرنے کی ایک بڑی وجہ بنا۔

لارج اسکیل مینوفیکچرنگ ( ایل ایس ایم) شعبے کی منفی کارکردگی جو برآمدات کا بنیادی محرک ہے نے یقیناً برآمدات میں جی ڈی پی کے تناسب سے کمی میں کردار ادا کیا۔ برآمدات 2024ء میں 11.1 فیصد سے گھٹ کر 2025ء میں 4.3 فیصد رہ گئیں جبکہ انتظامی اقدامات کے باعث درآمدات میں نمایاں کمی واقع ہوئی جو 2024ء میں 11.2 فیصد سے کم ہو کر 2025ء میں 0.9 فیصد رہ گئیں۔ اس کے نتیجے میں 2025ء میں کرنٹ اکاؤنٹ بیلنس 2.113 ارب امریکی ڈالر سرپلس رہا جو 2024ء میں منفی 2.072 ارب ڈالر تھا۔ درآمدات میں اس کمی نے ممکنہ طور پر ایل ایس ایم (لارج اسکیل مینوفیکچرنگ) کی منفی کارکردگی میں کردار ادا کیا، کیونکہ یہ شعبہ خام مال اور نیم تیار شدہ مصنوعات کی درآمد پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے۔ مزید یہ کہ یہ بات قابلِ غور ہے کہ 2025ء میں نجی شعبے کے قرضوں کا جی ڈی پی میں تناسب 2024ء کے مقابلے میں دگنا ہو گیا، یعنی 6.1 فیصد سے بڑھ کر 12.2 فیصد لیکن اس اضافے کا ایل ایس ایم پر کوئی خاص اثر نہیں پڑا، حالانکہ یہی شعبہ معیشت میں نجی قرضوں کا سب سے بڑا حصہ دار ہے۔ ماہرینِ معیشت کے مطابق اس کی وجہ یہ ہے کہ زیادہ تر قرضہ پیداواری سرگرمیوں کے بجائے قیاس آرائی میں استعمال ہوا۔

رپورٹ میں معیشت میں نمایاں بہتریوں کو بھی اجاگر کیا گیا ہے، جن میں افراطِ زر میں بڑی کمی جو 2024ء میں 23.4 فیصد تھی، وہ گزشتہ مالی سال میں گھٹ کر 4.5 فیصد رہ گئی اور پالیسی ریٹ میں نمایاں کمی جو 2024ء میں 20.5 فیصد تھا، وہ 2025ء میں کم ہو کر 11 فیصد ہو گیا۔ اس حوالے سے دو اہم مشاہدات قابلِ ذکر ہیں۔

اول، آئی ایم ایف نے پاکستان کو جولائی 2025ء سے مؤثر ہونے والی تکنیکی معاونت فراہم کی ہے تاکہ جی ڈی پی کے ایک تہائی حصے سے متعلق بنیادی اعدادوشمار میں پائی جانے والی اہم خامیوں کو دور کیا جا سکے۔ ادارے نے اس بات کی بھی نشاندہی کی ہے کہ اعدادوشمار کی تفصیل اور ان پر اعتماد کے حوالے سے مسائل موجود ہیں، اور ایک نیا پروڈیوسر پرائس انڈیکس تیار کرنے کی ضرورت ہے۔

دوسرا پالیسی ریٹ میں کمی سے حکومت کو بڑا فائدہ ہوا کیونکہ اس کے نتیجے میں اسے بھاری قرض لینے کا موقع ملا، 8 کمرشل بینکوں سے 1.225 ٹریلین روپے کا قرض لیا گیا تاکہ سرکلر ڈیٹ کی ادائیگی کی جاسکے جس کے سود کی ادائیگی حسبِ روایت صارفین کے ذمہ ہوگی۔ اس عمل نے نجی شعبے کے قرض کو محدود (crowd out) کر دیا، جبکہ حکومت نے زرمبادلہ ذخائر کو مستحکم کرنے کے لیے کثیرالجہتی اور دوطرفہ اداروں سے قرضوں میں اضافہ کیا۔ سال 2025ء کے اختتام پر زرمبادلہ ذخائر 14.506 ارب ڈالر تک پہنچ گئے جو 2024ء کے 9.390 ارب ڈالر کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ہے، جس میں تین دوست ممالک کی جانب سے دیے گئے رول اوورز کا بڑا حصہ شامل تھا۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ پرائیوٹ سیونگ جی ڈی پی کے 18 فیصد کے برابر رہی تاہم نیشنل سیونگز سینٹرز میں جمع رقم کو حکومت غیر فنڈڈ قرض کے طور پر استعمال کرتی ہے، جس کے باعث یہ رقم نجی شعبے کے لیے دستیاب نہیں رہتی۔ دوسری جانب گورنمنٹ سیونگزمنفی 4.9 فیصد رہی جو بجٹ خسارے کی عکاس ہے۔جہاں تک سرمایہ کاری کا تعلق ہے، نجی سرمایہ کاری 9.8 فیصد جبکہ عوامی سرمایہ کاری 2.9 فیصد رہی، کیونکہ بجٹ خسارہ پورا کرنے کے لیے سرکاری ترقیاتی پروگرام میں روایتی طور پر کٹوتی کی جاتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق مالیاتی نظم و ضبط میں بہتری 2025 میں محصولات میں اضافے کی عکاسی کرتی ہے تاہم جولائی تا جون 2025 مجموعی محصولات ہدف سے 178 ارب روپے کم رہیں جو آئی ایم ایف کے ساتھ طے شدہ اہداف کے مطابق نہیں تھے۔ مزید یہ کہ رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں بھی 198 ارب روپے کا خسارہ متوقع ہے جس کی بڑی وجہ سیلاب سے ہونے والا نقصان بتائی گئی ہے۔ آئی ایم ایف کے ساتھ طے شدہ اہداف میں بار بار کمی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ حکومت کی مذاکراتی ٹیم آئی ایم ایف کو حقیقت پسندانہ اہداف پر قائل کرنے میں ناکام رہی۔

رپورٹ کے اختتام پر کہا گیا ہے کہ معاشی منظرنامہ اُن خطرات سے مشروط ہے جو سیلاب کے اثرات، غیر یقینی جغرافیائی سیاسی حالات اور عالمی تجارتی بے یقینی سے پیدا ہو رہے ہیں۔ ماحولیاتی تبدیلی اور عالمی تجارتی غیر یقینی صورتِ حال بلاشبہ دنیا بھر کے لیے ایک سنگین تشویش ہے اور پاکستان بھی اس سے مستثنیٰ نہیں۔

تاہم یہ امید کی جاسکتی ہے کہ موجودہ سازگار جغرافیائی سیاسی حالات پاکستان کے لیے دور رس معاشی فوائد کا باعث بنیں گے، بشرطیکہ حکومت فعال مذاکرات کے ذریعے ایسی حکمتِ عملی اپنائے جو عوام کو کچھ ریلیف فراہم کر سکے۔ اس وقت جب کہ ملک کی 44.7 فیصد آبادی خطِ غربت سے نیچے زندگی گزار رہی ہے، اصلاحات کو فوری طور پر نافذ کرنے کے بجائے مرحلہ وار طریقے سے لانا اور اشرافیہ کی جانب سے بجٹ شدہ محصولات اور اخراجات میں رضاکارانہ قربانیاں دینا ناگزیر ہو چکا ہے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025