یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے پاکستان کو درپیش دو وجودی خطرات، تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی اور ماحولیاتی تبدیلی کے بارے میں خبردار کیا ہو۔ 2 اکتوبر کو پاکستان بزنس سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بچوں کی نشوونما میں رکاوٹ، غربت اور ماحولیاتی دباؤ ملک کی طویل المدتی پیداواری صلاحیت اور عالمی حیثیت کو کمزور کررہے ہیں۔
ان کا یہ انتباہ بالکل درست ہے: بے قابو آبادی میں اضافہ وسائل کو اُس رفتار سے کھا رہا ہے جس رفتار سے اُنہیں دوبارہ حاصل نہیں کیا جاسکتا جس کے نتیجے میں صحت، غذائیت اور غربت جیسے دیرینہ بحران سے نمٹنے کیلئے بہت کم وسائل بچتے ہیں۔ دوسری جانب ماحولیاتی تبدیلی بذاتِ خود ایک تباہ کن مسئلہ ہے لیکن غیر محدود آبادی کے دباؤ نے اسے مزید مہلک بنا دیا ہے۔
یہ دونوں چیلنجز معیشت کی بنیادوں پر براہِ راست ضرب لگا رہے ہیں، انسانی سرمائے کو کمزور کررہے ہیں، خوراک اور پانی کی سلامتی کو خطرے میں ڈال رہے ہیں اور ایسی کمزوریاں پیدا کررہے ہیں جنہیں کوئی قلیل مدتی مالیاتی یا زری پالیسی حل نہیں کرسکتا۔
اگر ان دباؤں کا سنجیدگی اور مربوط انداز میں مقابلہ نہ کیا گیا تو وزیرِ خزانہ کی بیان کردہ اصلاحاتی ایجنڈا، چاہے وہ معیشت کو زیادہ منصفانہ انداز میں ازسرِنو تشکیل دینا ہو یا سرمایہ کاری اور کاروبار کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنا، ان ہی دباؤں کے بوجھ تلے یا تو ناکام ہوجائے گا یا شروع ہونے سے پہلے ہی زمین بوس ہو جائے گا۔
جب بات آبادی سے متعلق چیلنجز کی ہو تو بالآخر معاملہ اُس بنیادی اصلاح کی طرف جاتا ہے جس کی یہ اخبار طویل عرصے سے وکالت کررہا ہے، یعنی نیشنل فنانس کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ کے افقی فارمولے میں بڑی تبدیلی لانا تاکہ وسائل کی صوبوں کے درمیان تقسیم کے لیے آبادی کو دیے گئے 82 فیصد کے حد سے زیادہ وزن میں نمایاں کمی کی جا سکے۔
اس بگڑے ہوئے فارمولے نے ہماری ترقی کی سمت کو گہرے نقصان سے دوچار کیا ہے اور پاکستان کو تیزی سے بدلتی سماجی و معاشی حقیقتوں سے نمٹنے کے لیے کمزور بنا دیا ہے۔ورلڈ بینک کے اعداد و شمار کے مطابق غربت کی شرح 45 فیصد تک پہنچ چکی ہے، بیروزگاری بڑھ رہی ہے، خاص طور پر نوجوانوں میں، جہاں ہنرمندی کے فقدان کا سامنا ہر سال لاکھوں نئے امیدواروں کے لیبر مارکیٹ میں داخل ہونے سے ہوتا ہے۔غذائی قلت، بچوں کی نشوونما میں رکاوٹ اور خون کی کمی جیسے مسائل صحت کے شعبے کو متاثر کررہے ہیں، لاکھوں یونٹس کا رہائشی خلا موجود ہے، 2 کروڑ 50 لاکھ بچے اسکولوں سے باہر ہیں، اور زراعت و صنعت ہر سال موسمی تباہ کاریوں سے متاثر ہوتی ہیں۔ یہ لمحۂ فکریہ ہے کہ ہم اب بھی وسائل کی تقسیم کے ایک فرسودہ فارمولے سے چمٹے ہوئے ہیں، بجائے اس کے کہ ایسا فارمولا اپنائیں جو انسانی ترقی، مالیاتی ذمہ داری، ماحولیاتی لچک اور صوبوں میں معیارِ زندگی بلند کرنے کی حقیقی کوششوں کو انعام دے۔
اگرچہ غربت و پسماندگی (10.3 فیصد)، محصولات کی پیداوار (5 فیصد) اور انورس پاپولیشن ڈینسٹی (2.7 فیصد) جیسے عوامل قومی وسائل کی تقسیم میں معمولی کردار ادا کرتے ہیں اور کئی دیگر اہم عناصر کو مکمل طور پر نظرانداز کر دیا گیا ہے لیکن آبادی کو دیے گئے حد سے زیادہ وزن نے ایک خطرناک ساختی خرابی کو جڑ سے مضبوط کردیا ہے۔
وسائل کی تقسیم کو آبادی کے حجم سے منسلک کرنے کا مطلب یہ ہے کہ صوبوں کو زیادہ آبادی بڑھانے پر انعام ملتا ہے جس سے آبادی پر قابو پانے اور انسانی ترقی میں حقیقی سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے۔
اس کا نتیجہ بے قابو آبادی میں ایسے دھماکہ خیز اضافے کی صورت میں نکلا ہے جس نے معیشت کو مفلوج کردیا، ماحولیاتی وسائل کو تباہ کیا اور کم فنڈنگ والے اسکولوں، اسپتالوں اور بنیادی انفرااسٹرکچر کو دبا کر رکھ دیا۔ درحقیقت، آبادی کی بالادستی مالیاتی فارمولوں سے کہیں آگے بڑھ چکی ہے، یہ پارلیمانی نمائندگی کی تقسیم اور سرکاری ملازمتوں کے کوٹوں کے تعین میں بھی فیصلہ کن کردار ادا کرتی ہے جس کے باعث پورے نظام میں عددی برتری، اہلیت اور میرٹ پر غالب آ جاتی ہے۔
مزید یہ کہ اس رجحان نے قومی مردم شماری کی ساکھ کو بھی کمزور کردیا ہے کیونکہ آبادی کے اعدادوشمار بڑھا چڑھا کر پیش کرنے کی ترغیب نے بارہا صوبائی اختلافات اور بداعتمادی کو ہوا دی ہے۔
چونکہ آبادی میں اضافہ اور ماحولیاتی تبدیلی دونوں پاکستان کیلئے بنیادی چیلنجز کی حیثیت رکھتے ہیں، اس لیے نئے این ایف سی ایوارڈ کے فارمولے میں جنگلات کے رقبے، ماحولیاتی کمزوریوں اور ان سے پیدا ہونے والی ترقیاتی ضروریات جیسے عوامل کو لازمی طور پر شامل کیا جانا چاہیے۔ اسی طرح غربت کی سطح، محصولات میں اضافہ اور آبادی پر قابو پانے کی عملی کوششوں کو بھی زیادہ وزن دینا ناگزیر ہے۔
گزشتہ چند ماہ کے دوران ان تجاویز کی بازگشت پورے سیاسی منظرنامے پر سنائی دی ہے اور ممتاز ماہرینِ معیشت و ترقی نے بھی ان کی تائید کی ہے۔اب یہ نہایت ضروری ہے کہ وفاقی اکائیاں ان مطالبات پر توجہ دیں اور ایک فرسودہ مالیاتی ڈھانچے کی جگہ ایسا نظام اپنائیں جو نہ صرف آج کی فوری ضروریات کی عکاسی کرے بلکہ آنے والے کل کے تقاضوں کو بھی پورا کرے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025