سیاسی تقسیم سے قطع نظر، اس بات پر اتفاق رائے پایا جاتا ہے کہ نجی شعبہ ترقی کے انجن کے طور پر کام کرے، جبکہ تاریخی طور پر اس کا طریقہ کار یہ رہا ہے کہ ٹیکس دہندگان کی قیمت پر نجی شعبے کو مراعات دی جائیں، مالی، زرعی (مانیٹری) اور بنیادی سہولتوں ( بجلی، گیس، پانی، پیٹرول وغیرہ) پر دی جانے والی رعایتیں، جنہیں اس بنیاد پر جائز قرار دیا گیا کہ اس سے بے روزگاری (جو اس وقت 22 فیصد ہے) میں کمی آئے گی اور دولت نچلی سطح (عام آدمی) تک پہنچے گی (یعنی ٹریکل ڈاؤن تھیوری) ، حالانکہ یہ نظریہ مکمل طور پر غلط ثابت ہو چکا ہے کیونکہ آج 44.7 فیصد پاکستانی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے اپنی 10 اکتوبر 2024 کی دستاویزات میں اس مسئلے کی جڑ پر روشنی ڈالی ہے، جو ملک کے چوبیسویں پروگرام قرضے کی وجہ ہے: ”پاکستان کے معیشت کے اتار چڑھاؤ (بوم بسٹ) اور اس کی میکرو اکنامک پالیسیوں کے درمیان گہرا تعلق ہے۔“ 2008 سے اب تک، پاکستان نے پانچ آئی ایم ایف پروگرام قرضے حاصل کیے، جن کے بدلے میں اہم اصلاحات نافذ کرنے پر اتفاق کیا، لیکن جیسے ہی ادائیگیوں کے توازن ( بیلنس آف پیمنٹس ) کا بحران کم ہوا، ان اصلاحات پر عملدرآمد ترک کر دیا گیا۔

2008 کا قرضہ 2010 میں اس لیے معطل کر دیا گیا کیونکہ متفقہ ٹیکس اور بجلی کے شعبے کی اصلاحات نافذ نہیں کی گئیں۔ 2013 میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے ایک فنڈ قرضہ حاصل کیا، جو 2016 میں مکمل ہوا؛ تاہم ان اصلاحات کا مقصد معیشت کے اتار چڑھاؤ کا مستقل حل نہیں تھا، جس کے نتیجے میں حکومت کو 2017 تک ایک اور فنڈ قرضہ حاصل کرنے کے لیے مذاکرات کا آغاز کرنا پڑا (جسے مناسب طور پر 2018 کے انتخابات کے بعد تک موخر کر دیا گیا)۔

مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں کا یہ دعویٰ کہ ان کے دورِ حکومت میں معیشت ترقی کی راہ پر گامزن تھی اور اس میں بگاڑ تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے دور میں آیا، آئی ایم ایف کی جون 2019 کی دستاویز (جس کا عنوان ہے ”ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسلٹی کے تحت توسیعی معاہدے کی درخواست“) کے پہلے پیراگراف سے ہی رد ہو جاتا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ ”غلط سمت میں چلائی گئی معاشی پالیسیاں، جن میں بڑے مالی خسارے، نرم مالیاتی پالیسی اور ایک زائد از قدر شرح مبادلہ یعنی حقیقی قدر سے زائد شرح مبادلہ (اوور ویلیوڈ ایکسچینج ریٹ) کا دفاع شامل تھا، نے حالیہ برسوں میں کھپت اور قلیل مدتی ترقی کو تو سہارا دیا، لیکن اس کے نتیجے میں بتدریج میکرو اکنامک تحفظات ( میکرو اکنامک بفرز) ختم ہوتے گئے، بیرونی اور عوامی قرضے بڑھے اور زرمبادلہ کے ذخائر کم ہو گئے۔“

اس کے ساتھ ہی، ساختی کمزوریاں (اسٹرکچرل ویک نیس) بھی بڑی حد تک برقرار رہیں، جن میں ہمیشہ سے کمزور ٹیکس نظام، مشکل کاروباری ماحول، نقصان میں چلنے والے اور غیر موثر سرکاری ادارے (ایس او ایز) اور ایک بڑی غیر رسمی معیشت کے ہوتے ہوئے کم لیبر پیداوار شامل ہیں۔

آئی ایم ایف نے خبردار کیا ہے کہ ”اگر فوری طور پر پالیسی سطح پر اقدامات نہ کیے گئے تو معیشت اور مالیاتی استحکام کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے اور تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ترقی کی رفتار ناکافی ہوگی۔“

مزید یہ کہ مسلم لیگ (ن) کی دو معاشی ٹیموں کے قائدین، اسحاق ڈار اور مفتاح اسماعیل کی کارکردگی پر سخت سوالات اٹھاتے ہوئے، فنڈ نے کہا کہ “آخری آئی ایم ایف پروگرام (2016) کی تکمیل کے تین سال سے بھی کم عرصے میں، پاکستان کی معیشت دوبارہ دباؤ کا شکار ہو گئی، جس کی بنیادی وجہ بڑے مالیاتی اور بیرونی مالیاتی تقاضے تھے، جنہیں محض قلیل مدتی دوطرفہ قرضوں سے کچھ حد تک قابو میں رکھا گیا۔

پالیسی سازی اور معاشی ادارے اتنے مضبوط نہ تھے کہ بہتر میکرو اکنامک پالیسیوں کو یقینی بنایا جا سکے، جس کے نتیجے میں غیر متوازن ترقی، بھاری قرضوں کا بوجھ اور ایک نئے پروگرام کی عدم موجودگی میں معاشی ابتری کا خطرہ پیدا ہوا۔

فی کس ترقی تقریباً رُک چکی ہے، جس کی بنیادی وجوہات کاروباری مشکلات، وسیع غیر رسمی معیشت اور روپے کی قدر کو حقیقت سے زیادہ برقرار رکھنا ہیں۔“

2019 سے اب تک پاکستان نے آئی ایم ایف کے تین پروگرام حاصل کیے، پہلا، 2019 میں تحریک انصاف کی حکومت کے تحت شروع ہوا، جسے 2020 میں کووڈ-19 کے باعث دو سال کے لیے مؤخر کر دیا گیا، اور بالآخر 2023 میں اُس وقت کے وزیرِ خزانہ اسحاق ڈار کی جانب سے طے شدہ شرائط کی خلاف ورزی پر معطل کر دیا گیا؛ دوسرا، 2023 میں نگران حکومت کے دوران نَو ماہ کی اسٹینڈ بائی سہولت، جو مکمل کی گئی؛ اور تیسرا، 2024 میں شروع ہونے والا چھتیس ماہ کا ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسلٹی پروگرام، جو اس وقت جاری ہے اور جس کا بنیادی ہدف ریاستی وسائل پر اشرافیہ کے قبضے کا خاتمہ ہے، یہاں ’اشرافیہ‘ سے مراد بڑے اسٹیک ہولڈرز اور وہ مراعات یافتہ نجی شعبہ ہے، جسے ہر حکومت نے کسی نہ کسی شکل میں نوازا، اگرچہ ترجیحی شعبے وقت کے ساتھ بدلتے رہے۔

اس وقت جاری پروگرام میں آئی ایم ایف کی توجہ کا ایک بڑا مرکز نجی شعبے میں اثر و رسوخ رکھنے والے طبقات کے لیے مراعاتی نظام کا خاتمہ ہے۔ اس حوالے سے فنڈ کی پالیسی واضح ہے۔ ”نظام کو سادہ بنانے کے لیے بے شمار رعایتیں اور ترجیحی شرحیں ختم کی جا رہی ہیں، اور پیٹرولیم مصنوعات پر سیلز ٹیکس میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔ خاص طور پر، چار برآمدی شعبوں کو مقامی طور پر فروخت ہونے والی مصنوعات پر دی جانے والی ٹیکس چھوٹ ختم کی جائے گی، نیز غیر ضروری غذائی اشیاء پر دی گئی رعایتیں بھی واپس لی جائیں گی۔ اس کے علاوہ چینی، اسٹیل، خوردنی تیل، اور درمیانے و بڑے درجے کے ریٹیلرز کو دی گئی ترجیحی ٹیکس شرحیں بھی ختم کر کے انہیں معیاری 17 فیصد سیلز ٹیکس کے دائرے میں لایا جائے گا۔“

آئی ایم ایف نے اکتوبر 2024 کی اپنی دستاویزات میں بغیر لگی لپٹی کے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ ”ریاست کی جانب سے کاروباروں کو سبسڈی، مراعات یافتہ ٹیکس پالیسیاں، تحفظ، اور حکومتی سطح پر قیمتوں کے تعین جیسے اقدامات نے ایک متحرک، برآمدی رجحان رکھنے والی معیشت کی تشکیل کی راہ میں رکاوٹ ڈالی۔ ان سبسڈیز کی شکل سستے قرضوں اور دیگر مالی رعایتوں کی صورت میں رہی، جو اگرچہ مختلف شعبوں کے لیے مختلف رہیں، لیکن مجموعی طور پر دیکھیں تو ان مراعات کے باعث پاکستان کے صنعتی شعبے کو جو مالی اور ٹیکس فوائد حاصل ہوئے، وہ نہ صرف خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں زیادہ تھے بلکہ کئی ایسے مقامی شعبوں کے مقابلے میں بھی جنہیں یہ مراعات میسر نہ تھیں۔“

ٹیکس نظام کو وسیع پیمانے پر غیر شفاف انداز میں مراعات دینے کے لیے استعمال کیا گیا، جس کے ذریعے بااثر شعبوں، جیسے رئیل اسٹیٹ، زراعت، صنعت اور توانائی، کو استثنیٰ دیا گیا، نیز خصوصی اقتصادی زونز (ایس ای زیز) کے پھیلاؤ کے ذریعے بھی انہیں فائدہ پہنچایا گیا۔

قیمتوں کے تعین میں حکومت کی مداخلت، جس میں زرعی اجناس، ایندھن، بجلی اور گیس (ہر چھ ماہ بعد) شامل ہیں، کے ساتھ ساتھ بلند درآمدی ڈیوٹیوں اور بغیر محصول والے (نان ٹیرف) تحفظ نے معاشی میدان کو چند مخصوص گروہوں یا شعبوں کے حق میں جھکا دیا ہے۔ اس تمام تعاون کے باوجود، کاروباری شعبہ معیشت کی نمو کا انجن بننے میں ناکام رہا۔ نتیجتاً، یہ مراعات مقابلے کی فضا کو کمزور کرنے کا باعث بنیں اور سرمایہ ایسے شعبوں میں پھنسا رہا جو مسلسل ناکارکردگی کا شکار ہیں، ایسی صنعتیں جو دہائیوں بعد بھی اپنے پاؤں پر کھڑی نہ ہو سکیں۔

وزارتِ تجارت، برآمد کنندگان اور صنعت کار بظاہر ان پروگرام شرائط سے لاعلم دکھائی دیتے ہیں، جن پر حکام کی جانب سے پہلے ہی اتفاق کیا جا چکا ہے، اور حسبِ روایت وہی شور شرابا سنائی دے رہا ہے، مالی اور مالیاتی مراعات، اور کم نرخوں پر بجلی و گیس کی فراہمی کا مطالبہ، جنہیں وزارتِ خزانہ کی جانب سے یکسر مسترد کیا جا رہا ہے۔

مزید برآں آئی ایم ایف پروگرام کے تحت سخت مالیاتی اور زری (مالی) پالیسیاں بدستور جاری ہیں، جو فطری طور پر نمو مخالف (اینٹی گروتھ) ہیں۔ ایسے میں نجی شعبے کی قیادت میں ترقی کے دعووں کو حقیقت پسندی کی ایک بڑی خوراک دینا ناگزیر ہو چکا ہے۔

خلاصہ یہ کہ آئی ایم ایف پروگرام کی ضرورت اس وقت فیصلہ کن حیثیت اختیار کر چکی ہے، کیونکہ اگر یہ سہارا ختم ہو جائے تو ملک کے ڈیفالٹ کرنے کا خطرہ ہے۔ تین دوست ممالک واضح کر چکے ہیں کہ اگر پاکستان فعال آئی ایم ایف پروگرام میں شامل نہ رہا تو وہ 12 ارب ڈالر سے زائد کے قرضوں کی میعاد میں توسیع واپس لے لیں گے۔

لہٰذا کم از کم آئندہ ایک سال تک طے شدہ شرائط سے انحراف یا ان کی واپسی کا کوئی امکان نظر نہیں آتا، خاص طور پر موجودہ شدید بارشوں اور سیلاب سے پیدا ہونے والی معاشی تباہی کے تناظر میں۔ امید کی جا سکتی ہے کہ حکومت، فنڈ کے ساتھ طے شدہ اصلاحاتی ایجنڈے کے ساتھ ساتھ، اپنے جاری اخراجات میں رضاکارانہ طور پر بڑے پیمانے پر کمی کرے گی، تاکہ ایسی مالی گنجائش پیدا ہو جو معیشت کو مضبوط بنانے میں مددگار ثابت ہو۔

کاپی رائٹ: بزنس ریکارڈر، 2025