اداریہ

قرضوں کا چیلنج

شائع September 22, 2025 اپ ڈیٹ September 22, 2025 02:00pm

ستمبر 2025 میں پاکستان کی مالیاتی سمت پالیسی ارادوں اور زمینی حقائق کے درمیان جاری کشمکش کو اجاگر کرتی ہے، اگرچہ حکومت مالیاتی استحکام اور قرضوں کی پائیداری پر زور دے رہی ہے لیکن مرکزی حکومت کا قرض مسلسل بڑھ رہا ہے جس سے ملک کی وسط مدتی مالی صحت کے بارے میں خدشات جنم لے رہے ہیں۔

جولائی 2025 تک پاکستان کا مجموعی قرضہ 78.2 کھرب روپے تک پہنچ گیا جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 12.4 فیصد زیادہ ہے ۔ اس میں 54.9 کھرب روپے مقامی قرضہ اور 23.3 کھرب روپے بیرونی قرضہ شامل ہے۔ حکومت نے قرض کے انتظام کو بہتر بنانے کے لیے کچھ اقدامات کیے ہیں، جن میں قبل از وقت ادائیگی اور قرض کی مدت میں توسیع شامل ہے لیکن یہ اقدامات عوامی مالیات پر موجود ڈھانچہ جاتی دباؤ کو مکمل طور پر حل نہیں کرسکتے۔

وزارتِ خزانہ مسلسل کم ہوتے ہوئے قرض-بمقابلہ-جی ڈی پی تناسب کو مالیاتی پیش رفت کی علامت قرار دے رہی ہے اور اس حوالے سے فِسکل رسپانسبلٹی اینڈ ڈیبٹ لمیٹیشن ایکٹ کے تقاضوں سے ہم آہنگی کا حوالہ دیتی ہے۔ ڈیبٹ مینجمنٹ آفس نے اپنی درمیانی مدت کی حکمتِ عملی برائے مالی سال 2026 تا 2028 میں مالی سال 2026 کیلئے قرض-بمقابلہ-جی ڈی پی تناسب 66 فیصد ہونے کا تخمینہ لگایا ہے۔

تاہم یہ ہدف خاصا بلند نظر آتا ہے، خصوصاً اس پس منظر میں کہ ملک مالی سال 2025 کا 68 فیصد کا ہدف حاصل کرنے میں ناکام رہا۔ اگر ساختی اصلاحات میں نمایاں تیزی نہ لائی گئی، بالخصوص سرکاری ملکیتی اداروں کے شعبے میں جہاں جاری آئی ایم ایف پروگرام کے باوجود پیشرفت سست روی کا شکار ہے، تو مالیاتی خسارہ برقرار رہنے کا امکان ہے۔

ان اداروں میں مسلسل ہونے والے نقصانات اور غیر مؤثر کارکردگی کی وجہ سے بجٹ کے خسارے کو پورا کرنے کے لیے قرضوں میں اضافہ کرنا پڑ رہا ہے، جو اس بات کو اجاگر کرتا ہے کہ گہری اصلاحات کے بغیر صرف قرض کے انتظام کی تکنیکی حکمت عملیوں کی حدود ہیں۔

مالی سال 26 میں قرض کی ادائیگی کے لیے درکار 26 ارب ڈالر، زرمبادلہ کے ذخائر پر مسلسل دباؤ ڈال رہے ہیں اور کریڈٹ ریٹنگ پر منفی اثرات کا خطرہ بڑھا رہے ہیں۔

قدرتی آفات جیسے حالیہ سیلاب، نے ان چیلنجز کو مزید بڑھا دیا ہے، جس سے مہنگائی کے دباؤ میں اضافہ ہوا اور مالی سال 2026 کے بجٹ میں حکومت کی فلیکسی بلیٹی کا امتحان لیا گیا۔ اگرچہ شرح سود میں کمی اور مہنگے قرضوں کی قبل از وقت ادائیگی جیسے اقدامات وقتی ریلیف فراہم کرتے ہیں، تاہم آمدنی کے حصول اور اخراجات میں ڈھانچہ جاتی عدم توازن مالی استحکام کے لیے ایک سنگین خطرہ بنا ہوا ہے۔

آگے چل کر دیکھا جائے تو، پاکستان کے درمیانی مدت کے مالیاتی مستقبل کا انحصار محصولات کی وصولی، اخراجات میں کمی اور ساختی اصلاحات پر فیصلہ کن اقدامات پر ہے۔

پائیدار ترقی کو فروغ دینے والے شعبوں میں سرمایہ کاری، جن میں ٹیکنالوجی، مینوفیکچرنگ اور زراعت شامل ہیں، نہایت اہم ہوگی۔ اگر جامع اور بروقت اصلاحات نہ کی گئیں تو ملک قرض میں اضافے اور مالی لچک کی کمی کے چکر میں پھنسنے کا خطرہ رکھتا ہے، جس کے وسیع اثرات ترقی، سماجی اخراجات اور معاشرتی بہبود پر مرتب ہوں گے۔

لہٰذا حکومت کی استحکام کی باتیں قابلِ اعتبار اور قابلِ پیمائش اقدامات سے ہم آہنگ ہونی چاہئیں، ورنہ بہتر قرض کی پائیداری کا وعدہ، کم از کم کہنے کو، محض ایک خواہش ہی رہے گا۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025