امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کے روز اعلان کیا کہ امریکی فوج نے ایک مبینہ وینزویلا منشیات بردار کشتی کو نشانہ بنایا جو امریکا کی طرف جا رہی تھی۔ یہ حالیہ ہفتوں میں منشیات اسمگلنگ کے شبہے میں دوسری کارروائی ہے۔ ٹرمپ کے مطابق حملہ بین الاقوامی پانیوں میں ہوا اور تین افراد ہلاک ہوئے۔ تاہم انہوں نے شواہد پیش نہیں کیے۔ بعدازاں ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ سمندر میں بکھری ہوئی کوکین اور فینٹانائل کی بوریاں اس کا ثبوت ہیں۔

یہ کارروائی اس وقت ہوئی جب امریکا نے جنوبی کیریبین میں اپنی فوجی موجودگی میں اضافہ کیا ہے۔ ہفتے کو پانچ ایف-35 طیارے پورٹو ریکو پہنچے جبکہ خطے میں سات جنگی بحری جہاز اور ایک جوہری آبدوز بھی موجود ہے۔

ٹرمپ نے اشارہ دیا کہ زمینی راستوں سے آنے والے منشیات اسمگلروں کے خلاف بھی کارروائی ہوسکتی ہے۔ امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے بھی اعلان کیا کہ فوج اسمگلروں کو ٹریک کر کے ختم کرے گی۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ ٹرمپ نے محکمہ دفاع کا نام بدل کر ڈپارٹمنٹ آف وار رکھنے کا حکم بھی دیا ہے جس کے لیے کانگریس کی منظوری درکار ہوگی۔

دوسری جانب وینزویلا کے صدر نکولس مادورو نے ان واقعات کو امریکی جارحیت قرار دیا اور کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان رابطے تقریباً ختم ہو چکے ہیں۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب گزشتہ ماہ امریکا نے مادورو کی گرفتاری پر انعام بڑھا کر 50 ملین ڈالر کر دیا، الزام لگاتے ہوئے کہ ان کے روابط منشیات اور جرائم پیشہ گروہوں سے ہیں۔

ریاستہائے متحدہ کی جانب سے کشتی کو تباہ کرنے کا فیصلہ غیر معمولی ہے کیونکہ عموماً ایسی کشتیوں کو قبضے میں لے کر عملے کو گرفتار کیا جاتا ہے۔ تاہم ٹرمپ انتظامیہ نے مؤقف اپنایا ہے کہ یہ انتہائی خطرناک کارٹل امریکا کی سلامتی اور مفادات کے لیے براہ راست خطرہ ہیں۔