نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) ملک بھر میں ایک واحد سسٹم آپریٹر کے قیام اور یکساں باسکٹ کی طرف پیش رفت کر رہی ہے جبکہ کراچی الیکٹرک (کے الیکٹرک) کی اس فریم ورک میں شمولیت آئندہ ایک سے دو برس میں متوقع ہے۔ یہ انکشاف کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کے حالیہ اجلاس میں پاور ڈویژن نے یکساں فیول چارجز ایڈجسٹمنٹ (ایف سی اے) کے نفاذ پر بحث کے دوران کیا۔

ذرائع کے مطابق پاور ڈویژن نے وضاحت کی کہ کے الیکٹرک قومی گرڈ سے 1000 میگاواٹ کی فرم کیپیسٹی کی حقدار ہے، تاہم اس سے زائد بجلی مرحلہ وار بنیاد پر فراہم کی جاتی ہے۔ حالیہ دنوں میں کے الیکٹرک کا بجلی حصول 1600 میگاواٹ تک پہنچ گیا ہے جو اس کی کل جنریشن باسکٹ کا 65 فیصد بنتا ہے۔

پاور ڈویژن نے بتایا کہ نیشنل الیکٹریسٹی پالیسی 2021 کے تحت یکساں ٹیرف کی پالیسی اپنائی گئی ہے تاکہ ملک بھر میں صارفین کو یکساں نرخوں پر بجلی فراہم کی جا سکے۔ حکومت پہلے ہی بنیادی ٹیرف اور سہ ماہی ٹیرف ایڈجسٹمنٹ کو ملک بھر میں یکساں رکھے ہوئے ہے تاہم فی الحال ڈسکوز اور کے الیکٹرک کے صارفین سے ایف سی اے مختلف وصول کیا جاتا ہے، جس کے باعث حکومت کو سبسڈی دینا پڑتی ہے۔

ای سی سی کو بتایا گیا کہ اگر ڈسکوز کے لئے مقرر کردہ ایف سی اے کو کے الیکٹرک پر بھی لاگو کیا جائے تو سبسڈی کے فرق کو حکومت ایڈجسٹ کر سکتی ہے اور اس طرح یکساں ٹیرف پالیسی کو مزید تقویت ملے گی۔

پاور ڈویژن نے نیپرا کو ہدایت دینے کی سفارش کی کہ (i) یکساں ٹیرف برقرار رکھنے کے لئے کے الیکٹرک کے صارفین پر بھی ڈسکوز کا ایف سی اے لاگو کیا جائے؛ (ii) دونوں صارفین پر ایف سی اے یکساں مدت کے ساتھ نافذ ہو؛ (iii) کے الیکٹرک اور ڈسکوز کے ایف سی اے میں فرق کو سبسڈی یا کراس سبسڈی کے ذریعے پورا کیا جائے؛ اور (iv) یہ عمل جون 2025 کے ایف سی اے (جو اگست 2025 کے بلوں میں وصول ہوگا) سے شروع کیا جائے۔

وزارتِ خزانہ نے اس تجویز کی حمایت کی لیکن واضح کیا کہ حکومت پر کوئی اضافی مالی بوجھ نہیں آنا چاہیے۔ اگر مستقبل میں کے الیکٹرک کا ایف سی اے مثبت ہو کر ڈسکوز سے زیادہ نکلے تو اس تجویز پر نظرثانی کی جا سکتی ہے۔

دوسری جانب نیپرا نے اپنے تبصروں میں کہا کہ کے الیکٹرک اور ڈسکوز کا ایف سی اے ان کے الگ الگ جنریشن مکس اور لاگت کے ڈیٹا کی بنیاد پر طے کیا جاتا ہے تاکہ شفافیت اور ”کاسٹ ریفلیکٹیویٹی“ کے اصول برقرار رہیں۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025