پاکستان

وزیرِاعظم کا کپاس کی پیداوار میں کمی پر تشویش کا اظہار، قومی سطح پر کوششوں پر زور

  • کپاس کے شعبے کو دوبارہ زندہ کرنا ہوگا، مویشیوں کے شعبے میں بھی بے پناہ صلاحیت موجود ہے، شہباز شریف
شائع اپ ڈیٹ

وزیرِاعظم شہباز شریف نے کپاس کی صنعت کے زوال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا اور زور دیا کہ اس شعبے کو بحال کرنے کے لیے فوری قومی سطح پر کوششیں کی جائیں، جو حالیہ برسوں میں 1 کروڑ 40 لاکھ گانٹھوں سے گھٹ کر صرف 40 لاکھ گانٹھوں تک پہنچ گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنے کپاس کے شعبے کو دوبارہ زندہ کرنا ہوگا، اسی طرح مویشیوں کے شعبے میں بھی بے پناہ صلاحیت موجود ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے زرعی شعبہ میں 300 مزید پاکستانی طلباء کو تربیت کیلئے چین بھیجنے کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

زرعی شعبے کو قومی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی قرار دیتے ہوئے انہوں نے پیداواری صلاحیت میں کمی کے مسئلے کے حل اور خصوصاً کپاس اور مویشیوں کے شعبوں میں موجود وسیع امکانات سے فائدہ اٹھانے کے لیے اس شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی فوری ضرورت پر زور دیا۔

انہوں نے کہا کہ ہم ایک زرعی معیشت ہیں، اس شعبے میں کی جانے والی کوئی بھی سرمایہ کاری براہِ راست معیشت کو مضبوط کرتی ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ملک بھر سے میرٹ پر منتخب ہونے والے یہ طلبہ چین میں پاکستان کے سفیر ثابت ہوں گے۔

وزیرِاعظم نے جدید زرعی ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ ملک کی معاشی بحالی کے لیے یہ نہایت ضروری ہے۔

روانگی کے منتظر یہ طلبہ دوطرفہ نوجوان ترقیاتی پروگرام کا حصہ ہیں، جس کا مقصد پاکستانی گریجویٹس کو جدید زرعی طریقوں اور علم سے آراستہ کرنا ہے، جو زراعت کے شعبے میں اسلام آباد اور بیجنگ کے بڑھتے ہوئے تعاون کو اجاگر کرتا ہے۔

شہباز شریف نے چین کے صوبہ شیان میں تربیت حاصل کرنے کے بعد حال ہی میں واپس آنے والے 300 طلبہ کے پہلے بیچ کی کارکردگی کو خصوصاً سراہا۔

انہوں نے یاد دلایا کہ یہ منصوبہ اُس وقت شروع کیا گیا جب انہوں نے چین کی ایک زرعی یونیورسٹی کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے جدید تحقیق اور زرعی طریقوں کا عملی مشاہدہ کیا۔

نئے گروپ میں پنجاب، سندھ، خیبرپختونخوا، بلوچستان، گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر کے طلبہ شامل ہیں جبکہ بلوچستان کے طلبہ کے لیے 10 فیصد کوٹہ مختص کیا گیا ہے۔

شہباز شریف نے اس پروگرام کو کامیاب بنانے میں تعاون پر چینی صدر شی جن پنگ، پاکستان میں تعینات چینی سفیر شیان ژائی دونگ اور چین میں پاکستان کے سفیر خلیل ہاشمی کا شکریہ بھی ادا کیا۔

سفیر ژائی دونگ نے چینی حکومت کی جانب سے سیلاب متاثرین کی امداد کے لیے ایک چیک پیش کیا جسے وزیرِاعظم نے خوش دلی سے قبول کیا۔

سفیر نے پاکستان کی ترقی کے لیے بیجنگ کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ تربیتی پروگرام صدر شی کے نوجوانوں کی استعداد کار بڑھانے کے وژن سے ہم آہنگ ہے۔

سفیر ژائی دونگ نے کہا کہ ہنر مند افرادی قوت معاشی ترقی کی بنیاد ہے۔

وزیرِاعظم شریف نے کہا کہ پاکستان نے میکرو اکنامک استحکام حاصل کر لیا ہے، زرمبادلہ ذخائر میں بہتری آئی ہے اور مجموعی قومی پیداوار کی شرح 3.5 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے۔

وزیرِاعظم نے تربیتی پروگرام کے انتظام میں اہم کردار ادا کرنے پر سفیر خلیل ہاشمی کو یادگاری شیلڈ پیش کی۔ طلبہ کا تازہ گروپ 24 اگست کو چین روانہ ہوگا۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025