یورپی امن فوج کے ممکنہ طور پر یوکرین میں تعینات ہونے کے منصوبے نے جرمنی میں شدید بحث کو جنم دیا ہے۔ چانسلر فریڈرک مرز نے عندیہ دیا ہے کہ جرمنی اس مشن میں حصہ لینے کے لیے تیار ہو سکتا ہے، تاہم یہ فیصلہ یورپی شراکت داروں اور پارلیمانی منظوری کے بغیر ممکن نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی فوجی تعیناتی کے لیے مینڈیٹ ضروری ہے۔

روس نے نیٹو ممالک کے فوجیوں کی ممکنہ موجودگی کی سخت مخالفت کی ہے، جبکہ جرمنی کے اندر بھی اس معاملے پر شدید تحفظات پائے جاتے ہیں۔ اپوزیشن جماعت آلٹرنیٹو فار جرمنی (اے ایف ڈی) نے فریڈرک مرز پر جنگ پسندی کا الزام لگایا اور اس اقدام کو خطرناک اور غیر ذمہ دارانہ قرار دیا۔ فریڈرک مرز کے وزیر خارجہ یوہان وادیفول نے بھی خبردار کیا کہ یوکرین میں فوجی بھیجنا جرمنی کے لیے ناقابلِ برداشت ہوگا۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ نازی ماضی، افغانستان اور مالی میں ناکام فوجی مشنز اور موجودہ معاشی مشکلات جرمن عوام میں مزید خدشات کو جنم دیتے ہیں۔ ایک حالیہ سروے کے مطابق 49 فیصد جرمن فوجی تعیناتی کے حق میں ہیں جبکہ 45 فیصد اس کی مخالفت کرتے ہیں۔ فریڈرک مرز نے کہا ہے کہ اس معاملے پر ابھی حتمی فیصلہ دینا قبل از وقت ہوگا۔