عالمی منڈی میں پیر کو تیل کی قیمتوں میں معمولی کمی دیکھی گئی کیونکہ امریکہ نے روس پر مزید دباؤ ڈالنے یا اس کی تیل کی برآمدات روکنے کے لیے کوئی اضافی اقدام نہیں اٹھایا۔ دونوں ممالک کے صدور کی ملاقات کے بعد عالمی سرمایہ کاروں کو مزید سخت اقدامات کی توقع تھی لیکن صورتحال برعکس رہی۔

برینٹ کروڈ فیوچرز 26 سینٹ یا 0.39 فیصد کمی سے 65.59 ڈالر فی بیرل پر آگیا جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) 18 سینٹ کمی کے بعد 62.62 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوا۔

جمعے کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے الاسکا میں ملاقات کی جس میں دونوں رہنما جنگ بندی کے بجائے براہِ راست امن معاہدے کی طرف مائل نظر آئے۔ ٹرمپ نے پیر کو یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی اور یورپی رہنماؤں سے بھی ملاقات کرنا تھی تاکہ تیزی سے امن معاہدے پر بات آگے بڑھائی جا سکے۔

ٹرمپ نے عندیہ دیا کہ فی الحال چین جیسے ممالک پر جو روسی تیل خرید رہے ہیں، اضافی ٹیرف لگانے کی فوری ضرورت نہیں، تاہم آئندہ دو سے تین ہفتوں میں اس پر غور ہوسکتا ہے۔ اس اعلان کے بعد روسی سپلائی میں خلل کے خدشات وقتی طور پر ٹل گئے۔ چین دنیا کا سب سے بڑا تیل درآمد کنندہ اور روسی تیل کا سب سے بڑا خریدار ہے، اس کے بعد بھارت کا نمبر آتا ہے۔

آر بی سی کیپٹل کی ماہر ہیلیما کروفٹ کے مطابق صدر ٹرمپ نے ٹیرف کے معاملے پر فی الحال چین کے خلاف مزید اقدامات روک دیے ہیں، اس لیے صورتحال جوں کی توں ہے۔ تاہم ماسکو علاقوں پر دعوے سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں جبکہ یوکرین اور کچھ یورپی ممالک زمین کے بدلے امن کے فارمولے پر راضی نہیں۔

ادھر سرمایہ کار امریکی فیڈرل ریزرو کے سربراہ جیروم پاول کی جیکسن ہول اجلاس میں تقریر کا انتظار کر رہے ہیں جس سے ستمبر میں شرح سود میں ممکنہ کمی کے بارے میں اشارے مل سکتے ہیں۔