تل ابیب میں ہفتہ کے روز ہزاروں افراد نے غزہ میں جنگ کے خاتمے کے لیے سڑکوں پر مارچ کیا، یہ مظاہرہ اس کے ایک دن بعد ہوا جب اسرائیلی حکومت نے جنگ کے دائرہ کو بڑھانے اور غزہ سٹی پر قبضے کا اعلان کیا۔ مظاہرین نے یرغمالیوں کی تصاویر اور بینرز اٹھا رکھے تھے اور حکومت سے ان کی رہائی کے لیے اقدامات کا مطالبہ کیا۔

اے ایف پی کے مطابق مظاہرین کی تعداد دسیوں ہزار میں تھی، جبکہ یرغمالیوں کے لواحقین کی ایک تنظیم کا کہنا تھا کہ شرکا کی تعداد ایک لاکھ تک پہنچ گئی۔

جمعہ کو وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو کی سکیورٹی کابینہ نے غزہ سٹی پر قبضے کے لیے بڑے آپریشن کی منظوری دی، جس پر ملک کے اندر اور باہر سے شدید تنقید سامنے آئی۔ غیر ملکی طاقتوں اور اسرائیل کے اتحادی ممالک نے یرغمالیوں کی بازیابی اور غزہ میں انسانی بحران کو کم کرنے کے لیے جنگ بندی پر زور دیا۔

نیتن یاہو نے سوشل میڈیا پر کہا کہ ہم غزہ پر قبضہ نہیں کرنے جا رہے، ہم غزہ کو حماس سے آزاد کرائیں گے۔ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ 2023 کے حماس حملے میں پکڑے گئے 251 یرغمالیوں میں سے 49 اب بھی غزہ میں ہیں، جن میں 27 کی موت ہو چکی ہے۔

فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس نے اسرائیلی منصوبے کو نیا جرم قرار دیتے ہوئے فوجی کارروائی کو فوری روکنے کا مطالبہ کیا۔ اسرائیلی کابینہ نے غزہ میں ایک نئی انتظامیہ قائم کرنے کا بھی فیصلہ کیا جو نہ حماس ہو اور نہ فلسطینی اتھارٹی۔

اٹلی، آسٹریلیا، جرمنی، نیوزی لینڈ اور برطانیہ کے وزرائے خارجہ نے منصوبے پر تنقید کرتے ہوئے اسے انسانی بحران میں اضافہ قرار دیا۔ روس نے بھی اس اقدام کی مذمت کی۔

غزہ کے محکمہ شہری دفاع کے مطابق ہفتہ کو اسرائیلی فائرنگ سے کم از کم 37 فلسطینی شہید ہوئے، جن میں 30 وہ تھے جو امداد لینے کے منتظر تھے۔ غزہ کی وزارت صحت کے مطابق اسرائیلی حملوں میں اب تک 61 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔